شیشہ و تیشہ
شاداب بے دھڑک مدراسی
ہنسنے کی مشق!
دامانِ غم کو خون سے دھونا پڑا مجھے
اشکوں کے موتیوں کو پرونا پڑا مجھے
میری ہنسی میں سب یونہی شامل نہیں ہوئے
ہنسنے کی مشق کیلئے رونا پڑا مجھے
………………………
احمدؔ قاسمی
غزل (مزاحیہ)
لمحہ لمحہ عذاب گرمی کا
کچھ نہ پوچھو حساب گرمی کا
دُھوپ ایسی کہ جسم جلتا ہے
چھاؤں میں بھی عِتاب گرامی کا