شیشہ و تیشہ
انورؔ مسعود
صباحت و ملاحت
یہاں کلچے لگائے جا رہے ہیں
نمک کیوں لائیے جاکر کہیں سے
اُٹھا کر ہاتھ میں میدے کا پیڑا
’’پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے‘‘
………………………
شعیب علی فیصل (محبوب نگر)
دوہری خوشی …!
کہا مالک نے نوکر سے کہ رقعے کیوں نہیں بانٹا
ارے کل ہی تو شادی ہے یہ تو نے کردیا گھپلا
کہا نوکر نے ’’خوش ہونگے براتی سارے آ آکر