واراناسی سے دلت لیڈر آزاد مودی کا کریں گے مقابلہ۔

لکھنو۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کی میرٹھ اسپتال میں چہارشنبہ کے روز ملاقات کے فوری بعد بااثر دلت لیڈر او ربھیم آرمی کے چیف چندرشیکھر آزاد نے کہاکہ وہ واراناسی میں وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔

آزادنے کہاکہ ’’ اس الیکشن میں یوپی سے وزیراعظم مودی کو ان کی سیٹ پر جیتنے نہیں دوں گا‘‘۔

تاہم یہ صاف نہیں ہوا کہ ہے وارناسی میں کیاکانگریس ان کی حمایت کرے گی۔ اسپتال پہنچتے وقت پرینکا کے ساتھ یوپی کانگریس کے صدر راج ببر اور جیوتیرادیہ سندھیا بھی موجود تھے۔

منگل کے روز آزاد کو سہارنپور کے دیوبند میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہوجن ہونکار ریالی منعقدکرنے پر گرفتار کرلیاگیاتھا۔ تحویل میں بیمار پڑجانے کے بعد انہیں میرٹھ کے ایک اسپتال لے جایاگیاتھا ۔

مذکورہ ریالی کی شروعات 11مارچ سے ہونی تھی جو دہلی میں15مارچ کو اختتام پذیر ہونے والی تھی ۔ منگل کے روز مظفر نگر میں دلتوں کو جمع کرنے کی توقع تھی ۔ ملاقات کے بعد پرینکا نے دلتوں کے متعلق آزاد کی جدوجہد کو سراہا۔

انہوں نے رپورٹرس سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ میںیہاں پر ان سے دلتوں کے حقوق پر ان کی جدوجہد کی ستائش پر ملاقات کے لئے ائے ہوں۔وہ اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں مگر یہ حکومت عدم روداری کا شکار ہوگئی ہے جو ا ن کی آواز سننا بھی پسند نہیں کررہی ہے‘‘۔

وہیں پرینکا نے دعوی کیا کہ ان کا اسپتال دورہ غیر سیاسی ہے ۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دلتوں کو لبھانے کے لئے کوشش کی کوشش کا حصہ ہے۔جہاں تک مودی کے خلاف آزاد کا مقابلے کرنے کااعلان کی بات ہے تو جانکاری اس کو سستی شہرت حاصل کرنے کا حربہ مان رہے ہیں۔

آزاد سے پرینکا کی اسپتال میں ملاقات کے متعلق جانکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ملاقات کے ذریعہ کانگریس یوپی میں بی ایس پی کے دلت ووٹ بینک پر وار کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مغربی اترپردیش میں دلت مسلم رائے دہندوں کا مرکز اور بی ایس پی کے وفاداروں کا علاقہ مانا جاتا ہے ۔

مگر سال2014کے لوک سبھا2017کے اسمبلی الیکشن میں دلت ووٹ بی ایس پی سے دور ہوگئے تھے ۔ کانگریس کے سہارنپور میں مضبو ط لیڈر عمران مسعود کے قریبوں میں آزاد کا شمار ہے ۔

ستمبر میں جب ریاست کی یوگی حکومت نے آزاد کو رہاکیا تب وہ مسعود سے ملاقات کیلئے گئے تھے ۔مغربی یوپی کے دلت حلقوں میں مضبوط گرفت رکھنے والے آزاد نے مایاوتی اگلے وزیراعظم بنانے کی حمایت کی تھی۔ مگر مایاوتی نے انہیں قبول کرنے سے انکاربھی کردیاتھا۔

Leave a Comment