بہت ساری ٹیموں کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے اس لئے وہ جھگڑے کرتے ہیں

نئی دہلی۔پچھلے ہفتہ ترلوک پوری جو ایسٹ دہلی کا ایک حساس محلہ ہے وہا ں پر منفرد قسم کے جھگڑا دیکھنے کو ملا۔ دہلی پولیس نے ہندو اور مسلم کمیونٹی کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لئے ایک کرکٹ میاچ منعقد کیا۔پانچ وکٹ لینے او ر56رکن بناکر مین آف دی میاچ حاصل کرنے والے 21سالہ شاہ رخ خان فاصلاتی ذریعہ تعلیم سے گریجویشن کیا اور ای کامرس کمپنی کے لئے جزوی وقت کے لئے کام کرتا ہے۔

کتنے وقت سے آپ کرکٹ کھیل رہے ہو؟
بچپن سے ۔ میں نے ایک کلب میں شمولیت اختیار کی تھی اور کوچ کی خدمات سے بھی استفادہ اٹھارہا تھا مگر کچھ ماہ بعد اس کو چھوڑ دیاکیونکہ وہ قدیم تکنیک کے ذریعہ کھیل سیکھارہے تھے۔ میں کسی بھی میاچ سے قبل کوئی پریکٹس نہیں کرتا کیونکہ ہم اپنے محلے میں روز کرکٹ کھیلتے ہیں۔

بعض اوقات میں کم میاچ فیس مقرر کرکے ایک کھیل کے لئے میدان بھی بک کرتے ہیں
سال2014کے فسادات کے دوران آپ کے علاقے میں بھی کوئی تشدد پیش آیاتھا‘ اور اس دونوں کمیونٹوں کے تعلقات پر کس طرح کا اثر پڑا۔

میں ترلوک پوری کے بلاک35میں رہتا ہوں اور اس کو نہایت پرامن علاقے بھی قراردیتاہوں۔

او رہندو او رمسلمان دنوں یہاں پر رہتے ہیں۔ مگر ہاں فسادات کے دوران یہاں کے لوگ ڈر اور خوف میں تھے۔تناؤ کے وقت میں ترلوک پوری میں نہیں تھا اور گھر والوں نے کہاکہ میں حالات معمول پر آنے تک میں دور ہی رہوں۔ او ردوہفتوں تک کسی نے بھی کرکٹ نہیں کھیلا

کیااس طرح کے کرکٹ میاچ کی پہل دونوں کمیونٹوں میں امن اور بھائی چارہ کوفروغ دے سکتی ہیں؟
یقیناایسا ہوسکتا ہے۔ جب ہم ایک ٹیم کی شکل میں کھیلتے ہیں تو ہمارے درمیان میں صرف دوستی ہوتی ہے ‘ دشمنی نہیں۔ پیر کے میاچ کے بعد کئی دونوں طرف کے کئی نوجوان کھیل کے متعلق بات چیت کرتے رہے۔

اس طرح کا اگلا میاچ منعقد کرنے کا میں وعدہ کرتاہوں۔

آپ کے علاقوں میں نوجوانوں کو درپیش بڑا مسئلہ کیاہے؟
بے روزگاری او رتعلیم۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں مگر ان کے ساتھ رہنے اور رہنمائی کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ زیادہ تر خاندان غریب ہیں۔

یہاں بہت ساری خوبیوں کے بچے ہیں‘ انہیں صرف ایک موقع کی ضرورت ہے۔ انہیں بھی اس بات کااحساس ہے کہ فسادات کی وجہہ سے ترلوک پوری کا نام خراب ہورہا ہے۔ لوگوں کو ترلوک پوری کے متوطن بتانے پر ملازمت نہیں مل رہی ہے۔

اس طرح کی سرگرمیو ں کے علاوہ حکومت کو بھی دونوں طبقات کے درمیان میں تعلقات کو استوار کرنے کے لئے قدم اٹھانے چاہئے؟

ہر بلاک میں ایک ٹیم ہے ۔ وہ کرکٹ ٹیم ضروری نہیں ہے۔ بچے یہاں پر فٹبال ‘ بیڈ منٹن بھی کھیلتے ہیں۔ اور ہاں مزید کھیل کے میدان بھی درکار ہیں۔ دیکھو ہر کوئی امن چاہتا ہے۔وہ غلط کاموں میں ملوث ہوجاتے ہیں اور اس وقت ایک دوسرے سے لڑائی کرتے ہیں جب ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں رہتا