بچوں کا صفحہ

چڑیا گھر کی سیر
اتوار کا دن تھا، ہم نے اپنے ابو کے ساتھ چڑیا گھر کی سیر کا پروگرام بنایا۔ ہم نے کچھ ٹوکریوں میں پھل، مٹھائیاں اور کچھ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ دو تھرماس چائے کے بھی لے لئے۔ دو ٹیکسیاں کرائے پر حاصل کیں اور11بجے دن چڑیا گھر کے دروازے پر پہنچ گئے۔ گیٹ پر لوگوں کا ہجوم تھا، ہم سب قطار میں کھڑے ہوگئے۔ اپنی باری آنے پر ٹکٹ خریدے اور چڑیا گھر میںداخل ہوگئے۔ چڑیا گھر پہنچ کر ہم بے حد خوش تھے کیونکہ ہماری کافی عرصہ کی خواہش آج پوری ہورہی تھی۔ سب سے پہلے بندروں اور لنگوروں کے پنجرے تھے، یہ سب کے سب عجیب و غریب حرکتیں کررہے تھے۔یہاں پرکافی تعداد میں بچے جمع تھے اور بچے ان کی حرکات کو دیکھ کر بہت لطف اندوز ہورہے تھے۔ وہ بندروں کے سامنے کھانے پینے کی چیزیں خاص طور پر کیلے پھینک رہے تھے۔ کچھ بندر بچوں کی نقلیں اُتاررہے تھے۔ اس کے بعدہم تھوڑاسا آگے چلے تو ہم نے ہاتھیوں کو دیکھا جن کی پیٹھ پر بیٹھے بچے سواری کا لطف اُٹھارہے تھے۔ مہاوت آگے بیٹھا ہاتھی کو ہانک رہا تھا۔ ہم نے بھی ہاتھی کی سواری کی۔ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ ایک وسیع احاطے میں ہرن اور بارہ سنگھے گھوم پھر رہے تھے اور کچھ اُچھل کود کررہے تھے۔ اس احاطے کے ساتھ ہی زیبرے اور زرافے کے احاطے تھے۔ زیبرے کے جسم پر خوبصورت دھاریاں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔ دوسری طرف زرافے کا سر آسمان کو سلامی دے رہا تھا۔ ہم کچھ آگے بڑھے تو بھیڑیوں کے جنگلے آگئے۔ وہ بہت خونخوار نظر آرہے تھے۔ ان جنگلوں میں حوض اور پہاڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ہم نے شیر، چیتا، شتر مرغ ، مور، چڑیا، طوطے، بگلے، بطخیں، لق لق اور اژدھے دیکھے۔ پھر ہم نے ایک سبزہ زار پر چادر بچھائی اورسب ملکر دوپہر کا کھانا کھایا۔ کچھ دیر بعد ہم دوسرے جانوروں کو دیکھنے کے لئے چل پڑے ، اس طرح ہم نے چڑیا گھر کی سیر کی اور لطف اندوز ہوئے۔ تقریباً چھ بجے شام ہم واپسی کے لئے ٹیکیسوں میں بیٹھ کرواپس گھر آگئے۔

ہلکے رنگ کے لباس ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں
موسم گرما میں خواتین لان ، کاٹن اور چکن کے ملبوسات کی خریداری میں مصروف ہوجاتی ہیں ۔ ٹھنڈک کا احساس پیدا کرنے کیلئے نسبتاً ہلکے رنگوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہلکے اور کھلے ہوئے رنگ جہاں موسم گرما میں دیکھنے میں خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں وہیں آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما کے دوران سفید ملبوسات کے ساتھ دیگر مختلف اور ہلکے رنگوں کے امتزاج سے تیار کردہ ملبوسات کی مانگ بڑھ جاتی ہے ۔ بازاروں میں مکمل سفید اور دیگر شوخ رنگ کے ملبوسات ہاتھ اور مشینی کڑھائیوں سے سجی ہوئی قمیص شلواروں کی بھرمار ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ سفید جوڑوں پر کہیں کہیں خالصتاً سفید کڑھائی بھی دکھائی دیتی ہے ۔ بعض اوقات سفید شلوار کے ساتھ رنگ دار قمیص یا رنگ دار شلوار کے ساتھ سفید قمیص ۔ سفید قمیص پر رنگ دار دھاگے کا کام بھی مختلف انداز میں کیا گیا ہے جو طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے ۔ اس طرح جہاں شوخ رنگوں کے استعمال سے خواتین اپنا شوق پورا کرتی ہیں وہیں سفید رنگ کا امتزاج موسم گرما کے دوران سرخ ، میرون اور کالے رنگ کی شدت کو بھی کم کرکے موسم گرما کی مناسبت سے ٹھنڈک کا باعث بن جاتا ہے ۔ ان دنوں مارکیٹ میں دستیاب لان ، چکن اور کاٹن کے ملبوسات جہاں پر کپڑوں کی خوبصورت ڈیزائننگ پر مشتمل ہیں وہیں چکن یا مشینی ، کڑھائی کے مختلف ڈیزائنوں سے آراستہ کرکے خواتین کی پسند کا مرکز بنانے کا سامان کردیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کپڑوں پر بھی ستاروں کا دلکش کام اپنی بہار دِکھاتا ہے ۔ اسی طرح یہ انتہائی سادہ مگر باوقار رنگ ستاروں کے کام سے آراستہ کئے جانے کے بعد اور بھی شوخی اور جدت سے بھرپور نظر آنے لگتا ہے ۔ ان سب رحجانات سے ہٹ کر موسم گرما کے دوران کپڑوں پر ہلکا پھلکا کام بھی کیا جاتا ہے ۔

کیا بات ہے
٭ استاد : ( شاگرد سے ) تمہارا لباس کس چیز سے بنا ہے ؟ شاگرد : جناب ابو کے بڑے لباس کو چھوٹا کرکے ۔
٭ سڑک پر ایک بورڈ لگا تھا ، جس پر کسی نے لکھا تھا ۔ میں سب کیلئے دعا کرتا ہوں ۔اس کے نیچے کسی وکیل نے لکھ دیا ۔ میں سب کی وکالت کرتا ہوں اس کے نیچے کسی ڈاکٹر نے لکھ دیا ۔ میں سب کا علاج کرتا ہوں ۔ بورڈ کے نیچے تھوڑی سی جگہ خالی تھی جس پر ایک شہری نے لکھ دیا ، میں ان کے بل ادا کرتا ہوں ۔
٭ ایک بدمزاج افسر نے قدرے معذرت خواہانہ لہجے میں اپنے ماتحت سے کہا ’’ حامد میاں ، میں اکثر بلاوجہ تمہیں ڈانٹتا رہتا ہوں مگر جواب میں تم ہمیشہ مسکرا کر معذرت کرتے ہو یا اپنی کوئی ایسی غلطی تسلیم کرتے ہو جو تم نے کی ہی نہیں ہوتی ۔ آج میں یہ بات سمجھنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ مجھے ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہئے ۔
باس کی بات سن کر حامد میاں کا چہرہ کھل اٹھا اور وہ جلدی سے بولے ۔ ’’ سر! میرے والد مرحوم کہا کرتے تھے کہ حسنِ سلوک سے کمینے سے کمینہ انسان بھی موم ہوجاتا ہے ۔ واقعی انہوں نے سچ کہا تھا ۔ ‘‘
٭ ڈاکٹر : ( بچے سے ) بیٹا خالی پیٹ آئے ہو؟ بچہ : نہیں مارکھا کر آیا ہوں
٭ استاد : ( نالائق طالب علم سے ) آخر تمہارا کلاس میں آنے کا مقصد کیا ہے ۔ لڑکا : جناب مرغا بننا ۔

Leave a Comment