ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کاعہدہ سے استعفیٰ کا اعلان 

تہران : ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں معافی بھی مانگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے عہدہ پر کام جاری نہ رکھنے اور اس دوران کی جانے والی تمام کوتاہیو ں او رغلطیوں پر معافی مانگتا ہوں ۔ چار سال قبل ایران او ر عالمی ممالک کے درمیان طئے پائے جانے والے نیو کلیائی معاہدہ کی تکمیل میں جواد ظریف کا کردار نمایاں تھا لیکن اس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدہ سے نکل جانے کے اعلان پر سوالیہ نشانات کھڑے ہوگئے ہیں ۔ جواد ظریف کے استعفیٰ کے اعلان کی خبر کی ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی آئی آر این اے نے بھی تصدیق کی ہے ۔

امریکہ سے بین الاقوامی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ۵۹؍ سالہ جواد ظریف نے ماضی میں اقوام متحدہ میں ایران کی نمائندگی کی تھی او ر اس کے بعد ۲۰۱۳ء میں حسن روحانی صدر بننے کے بعد انہیں وزارت خارجہ کا عہدہ تفویض کیا گیا ۔ یہ ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ جواد ظریف استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ۔ انسٹا گرام پر جاری کئے گئے پیغام میں انہوں نے اپنے ہم وطنوں کا شکر یہ ادا کیا ۔

واضح رہے کہ ایران میں سوشل میڈیا کے کئی ویب سائٹس پر پابندی عائد ہے لیکن انسٹا گرام کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ اسی دوران خبر ہے کہ ایران کے قومی اسمبلی کے ۱۵۰؍ ارکان اسمبلی نے حسن روحانی سے درخواست کی کہ وہ جواد ظریف کا استعفیٰ قبول نہ کریں ۔

 

View this post on Instagram

بنام خدا
دوستان سلام
از محبت‌های سخاوتمندانه و حمایت‌های بی‌دریغ مردم عزیز و دلاور ایران، نخبگان ارجمند و مسئولین محترم در طول دوران خدمت‌گذاری—به ویژه در 30 ساعت گذشته—بسیار سپاسگزارم. عمری است که دل در گرو خدمت به این مرز و بوم و مردم بزرگ دارم و به عنوان خدمتگزاری کوچک، هیچ دغدغه‌ای جز اعتلای سیاست خارجی و اعتبار وزارت امور خارجه به عنوان مسئول پیشبرد سیاست خارجی و خط مقدم دفاع از منافع ملی و حقوق مردم شریف ایران در عرصه بین‌المللی نداشته‌ام.
امیدوارم وزارت امور خارجه با همکاری و همدلی همگان و درایت، هدایت و نظارت مقام معظم رهبری و ریاست محترم جمهوری، بتواند کلیه مسئولیت‌های خود را در چارچوب قانون اساسی، قوانین کشور و سیاست‌های کلی با اقتدار و صلابت به انجام رساند. ببخشید خوانا نبود

A post shared by Javad Zarif (@jzarif_ir) on

Leave a Comment