شیشہ و تیشہ

شاہدؔ عدیلی
غزل (مزاحیہ)
بے حیائی کا ہر اک سمت نظارا ہے میاں
نہ تو برقعہ ہے بدن پر نہ دوپٹہ ہے میاں
بالیاں کان میں ہیں چہرا بھی چکنا ہے میاں
جس کو دوشیزہ میں سمجھا تھا وہ لڑکا ہے میاں
ایک تو شعر مسلسل وہ سناتا ہے میاں
ہے ستم اُس پہ ترنم بھی کھٹارا ہے میاں
واعظ میں دیکھ لی واعظ کی بھی جانبداری
رُخ اُسی سمت ہے جس سمت زنانہ ہے میاں
شعبدہ باز تھا ، جاہل تھا، نکما بھی تھا
آج قسمت سے وہ پہنچا ہوا ’’بابا‘‘ ہے میاں
توتلا ہی نہیں ہکلا بھی ہے کانا بھی ہے
پھر بھی خواہش وہ حسیں بیوی کی رکھتا ہے میاں
جو کٹورے میں ہے کیسے میں نہاری سمجھوں
نہ زباں اُس میں نہ جبڑا ہے نہ پایا ہے میاں
جب وہ معشوق تھی لہجہ بھی تھا شیریں اُس کا
عقد ہوتے ہی زباں اُس کی کریلا ہے میاں
ہے زباں پر مرے شاہدؔ یہ جو فعلن فعلن
خاندانی ہے مرض مجھ میں بھی آیا ہے میاں
………………………
کیس ڈس مسڈ
جج : کیا ثبوت ہے تم گاڑی اسپیڈ میں نہیں چلارہے تھے ؟
ملزم : جناب میں اپنی بیوی کو لینے سسرال جارہا تھا …!
جج: دٹس آل ، کیس ڈِس مِسڈ
محمد امتیاز علی نصرت ۔پداپلی ، کریمنگر
………………………
کیا بتائیں …!
٭ ایک شخص شادی میں دیر سے کھانا کھا رہا تھا بالآخر ایک آدمی سے رہا نہ گیا اور اُس نے اُس شخص سے پوچھا : ’’اجی جناب ! اب بس بھی کریں اور کتنا کھائیں گے ؟‘‘
اُس شخص نے کہا : ’’اُو جی کیا بتائیں …! شادی کے کارڈ میں لکھا تھا کہ 12 بجے سے 3 بجے تک کھانا کھلایا جائے گا …!!‘‘
ریشماں کوثر ۔ نلگنڈہ
………………………
سنہرا دور …!
استاد : پرانے زمانے کو سنہرا دور کیوں کہا جاتا ہے ؟ طالب علم : اس لئے کہ اُس وقت سونا سستا تھا…!
شعیب علی فیصل ۔ رامیا باؤلی ، محبوب نگر
………………………
لائیسنس …!
٭ تین دوست الگ الگ موٹر سائیکلوں پر سیر کیلئے نکلے ۔ راستے میں ٹرافک انسپکٹر نے ان کا راستہ روکا اور پوچھا … اپنے اپنے ڈرائیونگ لائیسنس دکھاؤ ۔
یہ سنتے ہی اُن میں سے ایک دوست نے اپنی موٹر سائیکل گھماکر بھاگا ۔ ٹرافک انسپکٹر نے بھی اپنی موٹر سیکل جلدی سے اسٹارک کرکے اُس کا پیچھا کرتے ہکرتے آخر پکڑ ہی لیا۔
پکڑے جانے کے بعد اُس (دوست) نے اپنا لائیسنس نکال کر دکھایا ۔
ٹرافک انسپکٹر نے تعجب سے کہا : ’’لائیسنس تھا تو تم بھاگے کیوں ؟ ‘‘اُس ( دوست ) نے کہا : کیونکہ میرے باقی دونوں ساتھیوں کے پاس لائیسنس نہیں تھے…!
زاہد حسین قندھارکر ۔ ریاست نگر
………………………
چونی کے لئے
٭ ایک صاحب کی کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں چونی گرگئی ۔ وہ اس خیال سے چونی اٹھانے سے رک گئے کہ لوگ چونی چھاپ کہیں گے ۔ ایک بیرے نے بڑھ کر چونی اٹھاکر دیدی تو ان صاحب کو چونی کے عوض بیرے کو بیس روپئے بطور ٹپ دینا پڑا ۔
وجئے ناتھ سکسینہ ۔ گولی پورہ
………………………
انجام
جج نے ملزم سے پوچھا ’’ تم نے ابھی کہا ہے کہ جو کہوگے سچ کہوگے ، سچ کے سوا کچھ نہیں کہو گے ‘‘ ۔ ملزم ’’ حضور عالی! آپ درست فرمارہے ہیں ۔ میں نے یہی کہا ہے ‘‘۔
تو تم اس سے بھی واقف ہوگے کہ اگر تم نے سچ نہ بولا تو اس کا انجام کیا ہوگا ؟ ‘‘ جج نے پوچھا ۔ ’’ ہاں جناب ! میں واقف ہوں کہ میں بری کردیا جاؤں گا ‘‘۔ ملزم نے کہا۔
حبیب عبدالقادر رفیع ۔ چندرائن گٹہ
………………………
دھمکی
٭ ایک رپورٹر نے ڈاکٹرصاحب کو دھمکی آمیز انداز میں کہا ’’ ڈاکٹر صاحب ! اگر آپ کے علاج سے مجھے فائدہ نہیں ہوا تو میں آپ کے خلاف رپورٹ چھاپ دونگا‘‘ ۔
یہ سنکر ڈاکٹر نے کہا ’’ یقینا چھاپنا اگر علاج کے بعد زندہ رہے !!‘‘
نوازش خان ۔ مہدی پٹنم
………………………