شیشہ و تیشہ

شاداب بے دھڑک مدراسی
ثوابِ جاریہ
حدیث زندہ دِل میں یہ لکھا ہے
ہنسانا ہنسنا صحت کی دوا ہے
خوشی بانٹو بلاشک ہے عبادت
ہنسی بانٹو ثوابِ جاریہ ہے
………………………

محمد محمود خان درّانی
شاعر کی نظر میں انتخابات !
بہادر ہند کی شیرنی کو دیکھئے
ایک چوہے سے ڈرایا جارہا ہے
سیاست جس کے آگے ہے سرنگوں
اُس پہ کیچڑ اُچھالا جارہا ہے
ہزاروں کا ہے جس نے خوں بہایا
اسکو مسند میں لایا جارہا ہے
کبھی نہ ہوگا اس کا خواب پورا
اس کو اُلو بنایا جارہا ہے
………………………

میں خود …!!
٭ ایک صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ پہلی بار سسرال گئے ان کی خوب آؤ بھگت ہوئی، دو تین روز تک تین وقت کے کھانے میں پالک کی مختلف چیزیں پکتی رہیں، وہ پالک کھاتے کھاتے بیزار ہوگئے۔
چوتھے دن اُن سے ساس نے پوچھا: ’’بیٹا ! بتاؤ آج کیا کھاؤ گے ؟ ‘‘
اُن صاحب نے بڑی ہی عاجزی سے کہا…! ساسو ماں ! آپ کیوں تکلیف کرتی ہیں، مجھ کو وہ پالک کا کھیت بتادیجئے، میں خود چر کر آجاؤں گا …!!
ارشادالرحمن ۔ کرنول
………………………

جب داد ملے …!
٭ جوش ملیح آبادی کے صاحبزادہ سجاد کی شادی کی خوشی میں ایک بے تکلف محفل منعقد ہوئی جس میں جوشؔ کے دیگر دوستوں کے ساتھ ساتھ ان کے جگری دوست ابن الحسن فکرؔ بھی موجود تھے۔
ایک طوائف نے جب بڑے سُریلے انداز میں جوش صاحب کی ہی ایک غزل گانی شروع کی تو فکرؔ صاحب بولے:
’’اب غزل تو یہ گائیں گی، اور جب داد ملے گی تو سلام جوش صاحب کریں گے‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………

دس تک گنو…!
٭ ایک بچہ بیمار تھا، اس کا باپ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے دل کی حالت دیکھنے کے لئے آلہ لڑکے کے سینے پر رکھا اور کہا : ’’بیٹا ! دس تک گنتی گنو …!‘‘
یہ سُن کر لڑکا گھبرایا اور بولا : ’’ابو ! آپ مجھے پھر اسکول لے آئے …!!‘‘۔
سید حسین جرنلسٹ ۔ دیورکنڈہ
………………………

پھر تو …!
٭ ایک عورت اپنے بچوں کو ایک جگہ بُلاکر کہتی ہے ’’دیکھو …! پورے ہفتے بھر میں جو سب سے زیادہ فرمانبردار اور شرافت کا ثبوت دے گا اُس کو ایک سرپرائز انعام ملے گا ۔
یہ سن کر بچوں نے ایک آواز میں کہا : ’’تب تو یہ انعام ہم میں سے کسی کو نہیں ملے گا ۔ صرف ڈیڈی ہی اس انعام کے حقدار قرار پائیں گے …!!
ڈاکٹر گوپال کوہیرکر ۔ نظام آباد
………………………

اور کتنا …!
باپ نے فیل ہونے پر بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے کہا : ’’ تُو تو نکمّے کانکمّا ہی رہا ۔ سامنے والوں کی لڑکی کو دیکھ وہ اپنی کلاس میں پہلے نمبر پر آئی ہے …!‘‘
بیٹے نے جواب دیا : ’’اور کتنا دیکھوں !، اُسی کو تو دیکھ دیکھ کے فیل ہوا ہوں…!‘‘۔
محمد امتیاز علی نصرت ۔ پداپلی ، کریمنگر
………………………

رونے کی وجہ…!
٭ ایک صاحب اپنے لڑکے کو اتنا کھانا ہی دیتے تھے کہ اس کا ہاضمہ خراب نہ ہو مگر لڑکے کی نیت نہیں بھرتی تھی۔
ایک روز ایک دعوت میں لڑکے کو ساتھ لے گئے ، وہاں کھانے ایک سے عمدہ ایک تھے ۔ لڑکا کھاتے کھاتے رونے لگا ۔
باپ نے لڑکے سے کہا :
’’بیٹا ! روتے کیوں ہو؟
لڑکے نے روتے ہوئے جواب دیا :
’’اب کھایا نہیں جاتا!‘‘
محمد منیرالدین الیاس ۔ مہدی پٹنم
………………………