سیکولر اور سوشلسٹ الفاظ پر بحث نہیں کی گئی

نئی دہلی 27 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آج لوک سبھا میں اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے دستور کے دیپاچہ میں سیکولر اور سوشلسٹ جیسے الفاظ کیلئے بحث کرنے کی ہر گز خواہش نہیں کی تھی۔ اس مسئلہ پر حال ہی میں تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ شخصی وضاحت کے معاملے کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے ان سے کانگریس لیڈر جیوتر دتیہ سندھیا نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنا بیان واپس لے لیں۔ انہو ںنے ایوان میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔ کانگریس کے چیف وہپ نے 23 فبروری کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ روی شنکر پرساد نے دستور کے دیپاچہ میں پائے جانے والے الفاظ سیکولر اور سوشلسٹ پر بحث کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ ان الفاظ کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دستور میں شامل کیا تھا ۔ چیف وہپ نے روی شنکر پرساد کے بیان کی مذمت کی تھی ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے روی پرشاد نے کہا کہ میں نے پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا تھا وہ یہ تھا کہ کانگریس کو یہ غور کرنا چاہئے کہ آیا جواہر لعل نہرو سیکولر تھے یا نہیں کیونکہ انہیں اور مولانا آزاد اور سردار پٹیل جیسے لیڈروں نے دستور میں سیکولر لفظ کو شامل نہیں کیا تھا ۔ اپوزیشن نے اس مسئلہ پر شور و غل کیا ہے جبکہ حکومت نے ان دونوں الفاظ کو ہٹانے کی کسی تجویز کو خارج ازامکان قرار دیا ہے ۔ 24 فبروری کو وقفہ صفر کے دوران کانگریس لیڈر نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔