تلنگانہ ریاست کسی ’ اماں ‘ کی دین نہیں: کے ٹی آر

کے سی آر کی جدوجہد اور قربانیوں کے سبب ریاست کی تشکیل، آریہ ویشیا طبقہ کی ٹی آر ایس میں شمولیت
حیدرآباد۔/29جون، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کسی ’ اماں‘ یا ’ بوماں‘ نے نہیں دیا بلکہ عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجہ میں مرکز کو تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ تلنگانہ بھون میں آج آریہ ویشیا طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور ریاست کی بدحالی کیلئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا اور تلنگانہ کا جبراً انضمام کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ کانگریس نے تلنگانہ اور آندھرا کی جبراً شادی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کسی اماں یا بوماں نے نہیں دیا بلکہ کے سی آر کی مساعی اور سینکڑوں قربانیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل ہوا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ کانگریس نے جو دھوکہ کیا ہے اس کی طویل فہرست ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مشن بھگیرتا کے تحت تلنگانہ میں ہر گھر کو پینے کے پانی کی سربراہی کا منصوبہ ہے اور اس پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے آئندہ مزید 15 سال تک ریاست میں ٹی آر ایس کی حکمرانی کی پیش قیاسی کی اور کہا کہ چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر کے عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر کانگریس پارٹی ہوائے وعدہ کررہی ہے جس پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کانگریس پارٹی یہ اعلان کرسکتی ہے کہ ہر گھر کو ایک تولہ سونا دیا جائے گا۔ اس طرح کی باتوں اور وعدوں پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اعلیٰ طبقات میں کئی غریب افراد موجود ہیں جن کی بھلائی اور ترقی پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ آریہ ویشیا طبقہ میں بھی غریب خاندان موجود ہیں جن کی بھلائی پر حکومت توجہ مبذول کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 70برس گزرنے کے باوجود ملک کے کئی مواضعات میں آج بھی برقی نہیں ہے۔ 1969 کی تلنگانہ تحریک کے مجاہدین کے خلاف پولیس فائرنگ کرتے ہوئے کانگریس نے کئی افراد کی جان لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بحالت مجبوری تلنگانہ ریاست کی تائید کی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، ریاستی وزیر کے سرینواس یادو، رکن پارلیمنٹ ملاریڈی، میئر حیدرآباد بی رام موہن، رکن اسمبلی ٹی کرشنا ریڈی اور دوسرے موجود تھے۔ آریہ ویشیا قائدین کو پارٹی کھنڈوا پہنا کر ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔