ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے آر ٹی سی کو بھاری نقصان

ٹریفک کی وجہ سے فی کیلو میٹر مائیلج میں بھی کمی سالانہ 70 کروڑ کا خسارہ
حیدرآباد ۔ یکم ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر آر ٹی سی بسوں پر پڑ رہا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سالانہ 70 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ شہر میں گنجان آبادی کی وجہ سے فی کلومیٹر آر ٹی سی بسوں کا مائیلج ایک طرف گھٹ رہا ہے تو دوسری طرف ڈیزل کی قیمتوں میں بڑھتے ہوئے اضافہ سے آر ٹی سی کے نقصانات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے 78 کروڑ روپئے کا نقصان ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے 29 ڈپوز کے حدود میں 3572 آر ٹی سی بسیں چلائی جارہی ہیں ۔ یہ بسیں ہر دن 42,725 ٹرپس بسیں چلاتے ہوئے 10.09 لاکھ کیلو میٹر کا احاطہ کرتے ہیں اور یومیہ 33 لاکھ عوام ان آر ٹی سی بسوں میں سفر کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہونچتے ہیں ۔ ان بسوں میں روزانہ 2.40 لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہورہا ہے ۔ اتوار اور عید و تہواروں کے موقع پر 2.35 لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہونے کے اعداد و شمار بتائے جارہے ہیں ۔ آر ٹی سی بس ایک لیٹر ڈیزل میں 5 تا 6 کیلومیٹر کا مائیلج دیتی ہے ۔ تاہم اے سی بس فی کیلو میٹر مائیلج 2 کیلو میٹر درج ہورہا ہے ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے گریٹر حیدرآباد آر ٹی سی پر بہت زیادہ بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ مارکٹ میں 71.63 روپئے فی لیٹر ڈیزل فروخت ہورہا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد آر ٹی سی میں زیادہ مقدار میں ڈیزل استعمال ہونے کی وجہ سے ٹنڈر کے ذریعہ کم قیمت پر ڈیزل فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خریدا جارہا ہے ۔ جس سے مارکٹ سے 3 تا 4 روپئے کم قیمت پر ڈیزل حاصل کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ سال اپریل میں 56.17 روپئے فی لیٹر ڈیزل سربراہ کیا گیا ۔ جاریہ ماہ 65.40 روپئے فی لیٹر پٹرول سربراہ کیا جارہا ہے ۔ فی لیٹر ڈیزل پر تقریبا 9 روپئے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے گریٹر حیدرآباد پر 70 کروڑ روپئے کا زیادہ بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے آر ٹی سی کے نقصانات میں مزید اصافہ ہورہا ہے ۔ ہر دن آر ٹی سی پر 99 لاکھ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ جو سال میں 361 کروڑ روپئے تک پہونچ جارہا ہے ۔ ان نقصانات کی پابجائی کے لیے گذشتہ سال گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے 365 کروڑ روپئے کی مدد کی تھی ۔ نقصانات پر قابو پانے کے لیے عہدیداروں کی جانب سے مختلف زاویوں سے غور و خوض کیا جارہا ہے ۔۔

Leave a Comment