چیف منسٹر ، صدر تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 30 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے سیما آندھرا عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چیف منسٹر ، صدر تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے صدر پر بھروسہ نہ کریں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ یہ تینوں مخالف تلنگانہ قائدین سیما آندھرا عوام کو گمراہ کرتے ہوئے احتجاج پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قائدین کو عوام کی بھلائی سے زیادہ ووٹ اور سیٹ کی فکر ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں عوام کے ہمدرد ہوتے تو وہ ریاست کی تقسیم کی تائید کرتے ہوئے سیما آندھرا کے لئے مرکز سے بہتر پیکیج حاصل کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ کرن کمار ریڈی ، چندرا بابو نائیڈو اور جگن موہن ریڈی نے ریاست کی تقسیم کو روکنے کیلئے سازش تیار کی ہے اور وہ متحدہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ عوام کو چاہئے کہ اپنے مفادات کیلئے کام کرنے والے ان قائدین پر بھروسہ نہ کریں اور احتجاج سے گریز کریں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مخالف تلنگانہ قائدین اسمبلی میں مسودہ بل پر مباحث کو روکنے کیلئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا عوام کو ریاست کی تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ سیما آندھرا کے سرمایہ دار حیدرآباد میں اپنے اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے تشکیل تلنگانہ کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی واضح کرچکی ہے کہ حیدرآباد میں قیام کرنے والے سیما آندھرا عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ سیما آندھرا عوام کو تلنگانہ کے علاقوں میں قیام کے سلسلہ میں خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہریش راؤ نے تلگو دیشم کے تلنگانہ قائدین کی جانب سے ٹی آر ایس اور اس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ پر تنقیدوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم قائدین کو کے سی آر پر تنقید کے بجائے پارٹی سربراہ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے ،

جنہوں نے علحدہ تلنگانہ کے مسئلہ پر اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔ ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ چندرا بابو نائیڈو نے مرکز کو تلنگانہ کے حق میں مکتوب روانہ کیا تھا لیکن مرکز کے فیصلہ کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تعمیر نو میں ٹی آر ایس اہم رول ادا کرے گی ۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل اس کی اولین ترجیح ہوگی ۔ ہریش راؤ کے مطابق آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس تلنگانہ میں واحد بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔

Leave a Comment