شاہدہ سے معاہدہ

دوسری اور آخری قسط

جہانگیر قیاسؔ
دوسرے دن ناشتہ پر میں نے جھوٹ کا سہارا لیا اور کہا اصل میں میں آپ کا اور اُس لڑکی کے خون کا گروپ ایک ہے اُس کو گردے کی خرابی ہے ۔ پھر میرے بیوی کے چہرے پر ایک نیا سورج طلوع ہوا اور وہ ایک دم کہنے لگی ارے اتنی سی بات ہے گردہ دینے راضی ہوں میں اصل میں کچھ اور سمجھ رہی تھی اور آپ کو غلط سمجھ رہی تھی ۔ یہ زینے پر چڑھنے سے بھی مجھے اپنے امید کا سورج نظر نہیں آیا مجھے کوئی اور ترکیب نکالنے کی ضرورت تھی کیونکہ میں ابھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ میں نے ایک اور ترکیب سوچی اور ایک اچھا ماحول اور اچھے موڈ میں دیکھ کر کہا دیکھو شاہدہ اس لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور صرف میرا مقصد کسی کو غم کے دلدل سے باہر کرنا ہے ۔ بیچاری کا غم دیکھ کر میں نے اشارۃً اسے شادی کا پے غام دیا تھا اور تب سے وہ بہت خوش ہے اور میں اب اسے نا کہہ کر پھر ایک بار زخم دینا نہیں چاہتا ، اصل میں حالات سے مغلوب ہوکر نادانستگی میں اُس کو شادی کا پیغام دے دیا یہ کام لاشعوری طور سے مجھ سے سرزد ہوگیا ۔ تم سوچو مجھ کو اگر واقعی شادی کی خو اہش ہوتی تو میں خود رشتے تلاش کرتا مگر ایسا نہیں ہے ، آپ حالات پر غور کرو یہ ایک قدرتی منشاء ہے ، حالانکہ میرا ارادہ بھی نہیں تھا ، میں تم سے معاہدہ کرتا ہوں ، شادی کے بعد اس لڑکی کو گھر لانے کے بعد آپ اپنی Custody حراست میں رکھو جب آپ موجود ہو وہ کھولے میں چلے گی اور پھرے گی جب آپ نہ ہوں تو وہ ایک کمرے میں قید رہے گی اور اس کی چابی آپ کے پاس رہے گی اور وہ بالکل آپ کے ساتھ ساتھ رہے گی ، گن مین کی طرح ، جب آپ کا من کرے اس کو میری قربت میں دینا ورنہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ساتھ رہے گی، اس کو اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی اور یہ تمام باتیں ہم تینوں کے درمیان ہی رہیں گی ، باہر کی دنیا کو اس کی وقفیت نہ ہوگی اور ایک بات کہ وہ اکیلی کسی مرد یا عورت سے بات نہیں کرے گی ، صرف آپ کی موجودگی میں ہی بات کرنا ہوگا تاکہ راز فاش نہ ہوجائے اورایک بات آپ جب کہیں گی میں اس کو چھوڑ دوں گا ، یہ میرا وعدہ ہے اور یہ معاہدہ میں تحریری شکل میں دو گواہوں کے سامنے لکھ کر آپ کو دوں گا تاکہ آپ کی سلطنتِ محبت میں کہیں شگاف نہ آئے ۔ دیکھو اس معاہدہ پر عمل کرنے سے کوئی آسمان ٹوٹ کر نیچے گرنے والا نہیں ہے ، نہ ہم کوئی گناہ کا کام کر رہے ہیں۔ صرف ایک مظلوم کو سہارا دے رہے ہیں ، خدا ہما رے دلوں کا حال جانتا ہے ۔ میں جذبات سے مغلوب ہوکر اپنے ہی ہم سفر سے ایک اور مسافر کو اپنی سواری پر بٹھانے کے لئے بلبلا رہا تھا جو پیدل سفر کرتے کرتے تھک گئی تھی اور اب آگے بڑھنے کی طاقت بھی نہیں تھی ، نہ جانے میں کیسی کیسی مثالیں اس کو پیش کر رہا تھا ۔ مگر وہ کسی بت کی طرح خاموش تھی اور میں پجاری کی طرح اس صنم کدے میں گڑگڑا رہا تھا ، وہ کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔ آخرکار میں تھک کر کسی معصوم بچے کی طرح وہیں سو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں نیند سے بیدار ہوا تو وہ سو گئی تھی۔ میں نے زندگی میں کسی عورت کو سامنے والے کی بات صرف سنتے ہوئے دیکھا تھا ورنہ عورت ایک سوال کے 21 جوابات دیتی ہے پہلی مرتبہ میں نے عورت کو سنجیدہ دیکھا۔

دوسرے دن ناشتے کے بعد پھر وہی بات چھڑگئی، اس نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے کہا میں دوسروں سے مشورہ کرنے کے بعد آپ سے بات کرتی ہوں۔ میں نے فورا ً کہا ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہئے، آپ ایک دن یا ایک مہینہ لے لو مگر کسی سے مشورہ نہ کرو لوگ جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اس کے خلاف مشورہ نہیں دیتے۔ یہاں کا ماحول ایک بیوی کا ہے، آپ کو لوگ بھٹکائیں گے مگر صحیح مشورہ نہیں دیں گے ۔ آپ جتنی چاہیں شروط رکھو مجھے منظور ہے مگر دوسروں سے نہیں ۔ دو چار دن کے بعد شاہدہ نے کہا میں آپ کو رات بھر کیلئے کسی اور بیوی کے پاس چھوڑ نہیں سکتی ، صرف ایک یا دو گھنٹہ ۔ میں نے کہا مجھے منظور ہے ۔ میں اس طرح اس کی ہر بات کو مان رہا تھا ، اس نے بہت دیر تک مجھے گھورنے کے بعد میرے گلے سے لپٹ کر بہت روئی ، ایسا جیسا کہ مجھے قتل کیا جارہا ہے ۔ جب اس کے آنسو تھمے تب اس نے کہا ’’تم مجھے دھوکا نہیں دینا ‘‘، ایک بار پھر رونا شروع کردیا۔ ایک طرف پروین کا رونا اور دوسری طرف شاہدہ کا رونا ۔ میں سوچ میں پڑگیا کیا واقعی اتنا مشکل عمل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اسلام اس کی اجازت نہ دیتا کیونکہ اسلام عین فطرت کے موافق ہے ۔ مجھے احساس ہوا واقعی انسان مذہب سے زیادہ ماحول کے اثر کو قبول کرتا ہے مگر چند لوگ ہی ایسا کرتے ہیں سب پر یہ بات لاگو نہیں ہوتی ۔
آخر کار بڑی مشکلوں سے ہی سہی شاہدہ نے میرے معاہدے کو مان لیا اور میں بہت فاتحانہ انداز میں اپنی منزل کی طرف دوڑ پڑا جیسا کہ بچے کو ہاتھ میں پیسے دیتے ہی وہ دوکان کی طرف دوڑتا ہے ۔
اب مجھے اجازت ملتے ہی تمام کام رازدارانہ طریقہ پر انجام دیئے قاضی صاحب کو بلاکر مذہب کے مطابق نکاح کے مراسم انجام دیئے گئے مگر زیادہ شور شرابہ نہ ہونے دیا۔ پروین سے رشتہ ہوجانے کے بعد ہم تینوں شام کا کھانا کھانے کے بعد میں شاہدہ کے کمرے میں جا کر لیٹ گیا ، وہ کمرے میں آکر کہنے لگی نوشہ آپ کو تو پروین کے کمرے میں ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا آپ نے اجازت نہیں دی ، اس نے مسکراتے ہوئے پروین کے کمرے تک پہنچا کر کہا ایک گھنٹے کے بعد آپ میرے پاس آجانا ۔ میں نے کہا جیسے جناب کی مرضی ، ماننے کو تیار ہوں ۔ آپ وعدہ کے پکے ہیں، اس لئے میں نے معاہدہ قبول کیا ۔ حسب وعدہ میں ایک گھنٹے کے بعد واپس آگیا بس اس طرح دن گزرتے گئے ۔ شاہدہ کا جب جی چاہتا وہ اجازت دیتی ۔ اس طرح ہم تینوں بھی خوش تھے ، میں بھی وعدے کا پکا تھا اور وہ بھی مجھ پر اعتماد کرتی تھی۔ اس طرح میں نے ایک روتی بلکتی زندگی کو سکون کی زندگی دینے کے قابل بن سکا اس کا مجھے بہت فخر ہے ۔ میں نے اس طرح معاہدہ کے ذریعہ ایک اچھا کام کیا تاکہ معاشرے میں اچھائی پھیلے اور برائی دور ہو۔
شاہدہ سے معاہدہ
چند دنوں بعد شاہدہ نے مجھ سے کہا آپ ضروری کام ہو تو باہر جایا کریں نہ ہو تو گھر پر رہیں تو ٹھیک ہے ۔ میں نے تعجب سے پو چھا کیوں کیا بات ہے ہم تینوں میں کوئی غلط فہمی تو نہیں… نہیں نہیں ویسی بات نہیں ہے مگر محلے کی عورتیں مجھ سے طرح طرح کے سوالات کرتیں ہیں جب آپ گھر پر ہوتے ہیں تب تو کوئی نہیں آتا۔ گیٹ کے سامنے سے آپ کی گاڑی جاتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ آپ گھر پر نہیں ہیں تب ایک کے بعد ایک آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ آپ جب گھر میں ہوتے ہیں تب بھی آتے ہیں مگر سیدھے سادھے سوال کر کے کہ آپ کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں ، کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں میں ایک گھریلو عورت ہوں اور آپ ایک پولیس آفیسر ہیں ، آپ فن گفتگو سے واقف ہیں، آپ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ گفتگو دو دماغوں کی جنگ ہوتی ہے ۔ Interrogation is War between two minds آپ ہر سوال کا مناسب جواب دیتے ہیں، میں ایسا کر نہیں سکتی۔ مجھ کو اور پروین کو لوگ بڑے تعجب سے دیکھتے ہیں جیسا کہ آسمان پر دو چاند نکل آئے ہیں، جیسے کوئی عجوبہ ہوگیا ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی انٹرویو لینے آجاتا ہے ۔ ان میں مرد بھی آتے ہیں کیا ؟ نہیں نہیں صرف عورتیں اور عجیب و غریب سوالات کرتی ہیں ، میں آپ سے بیان نہیں کرسکتی۔ بیچاری پروین کے آجانے سے آپ کو اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا کہ مجھے ہوا ۔ میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ اب دیکھو نہ میں پانی تک اُٹھ کر نہیں پیتی اور مجھے اب کچن میں جانے کی اجازت نہیں ، سب کچھ پروین ہی کرتی ہے ، میں ایک مہارانی کی طرح جی رہی ہوں ، وہ مجھے کوئی کام کرنے ہی نہیں دیتی ، ایسا معلوم ہورہا ہے، اب میری پنشن ہوگئی ہے ۔ آپ تو پنشن کو ترس رہے ہو مگر آپ سے پہلے میری پنشن ہوگئی ۔ میں اب ہر کام سے مبرا ہوگئی ہوں ۔ میں دنیا کی وہ خوش نصیب عورت ہوں جس کو میرے مالک نے مہارانی کی طرح جیلا رہا ہے ، لاکھ نوکرانیاں رکھ لو میری پروین کے جیسا خدمت گار من سے خدمت کرنے والی شائد ہی کسی کو نصیب ہو مگر لوگوں کے طرح طرح کے سوالات سے تکلیف ہوتی ہے ۔ میرا من چاہتا ہے کہ ہم لوگ کہیں دور چلے جائیں گے ۔ صرف چند ایک کے سوا ہمارے اس کام کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے ۔ جو دیندار لوگ ہوتے ہیں وہ تو دعائیں دے کر چلے جاتے ہیں مگر جو لوگ معاشرے سے متاثر ہوتے ہیں وہ تعجب سے دیکھتے ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں ، شاہدہ آپ کے جیسا اگر ہر عورت دل بڑا کرے تو سماج سے کنواری لڑکیوں کا مسئلہ حل ہوجائے گا ، واقعی عورتوں کے مسائل عورتیں ہی حل کریں ، اس میں مرد کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ پھر اب میں کیا کروں ؟ تو شاہدہ مزاحیہ انداز میں کہہ رہی تھی ’’چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو … ہم ہیں تیار چلو …‘‘
ہم دونوں کی بات کاٹتے ہوئے پروین نے کہا اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں تو شاہدہ نے کہا ’’آج آداب مقرر نہیں بیان ہو‘‘ تو پروین نے کہا میں کشتی کی پتوار چلا رہی ہوں آپ اور صاحب کشتی میں سوار ہو اور چاندنی رات میں جھیل کا سفر کتنا سہانہ ہوتا ہے ، آپ دونوں نے میری زندگی کے سفر کو پاکیزہ بنادیا ، خدا آپ دونوں کو جنت میں اس سے پاکیزہ زندگی عطا کرے ۔ شاہدہ نے کہا دونوں کو نہیں تینوں کو کہو اور ہم تینوں نے جم کر قہہقہ لگایا۔
معاشرے میں غم دور ہو تو مسکراہٹیں عام ہوں گی تو زندگی ایک خواب کی طرح ہے دیکھتے دیکھتے گزر جائے گی ، دراصل کسی کو خوشی عطا کرنا کمال ہوتا ہے ۔
اچھی رہی نہ ساتھ وہ بن کر بری رہی
اک خواب بن کے ساتھ مرے زندگی رہی

Leave a Comment