یہ کسی سیاسی تماشے سے کم نہیں۔

بنگال کی سیاست میں سیاسی ہلچل کے لئے سی بی ائی کی کاروائی کا وقت اور انداز۔ عدالت کو چاہئے کہ مرکزاو رریاست دونوں کو اس کا قانونی سبق پڑھائی۔

نئی دہلی۔اتوار کی شام سے کلکتہ میں شروع ہوا گہرا تماشہ ‘ اس کے تمام کھلاڑیوں کی منظرکشی کرتا ہے۔ ڈرامہ کی شروعات سی بی ائی کے چالیس سے زائد افیسروں کی مبینہ طور پر بناء جانکاری اور ورانٹ کے کلکتہ پولیس چیف کے گھر پر دھاوا سے شروع ہوئی۔

اس کے بعد ریاست کی پولیس او رسی بی ائی کے درمیان کشیدگی کا واقعہ پیش آیا۔

مذکورہ چیف منسٹر مغربی بنگال ایک دھرنا پر بیٹھ گئیں جس کو انہوں نے مرکزکی پہل کے خلاف ’’بغاوت‘‘ کا نام دیتے ہوئے اس دھرنے کو ایک ’’ ستیہ گرہ‘‘ کا عنوان دیا ‘ ان کا کہناتھا کہ صدر راج نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘ ریاست کے اعلی پولیس عہدیدار بھی ان کے دھرنے میں شامل ہوگئے۔

او ردوسری جانب ریاستی بی جے پی نے اس کو بطور ’’ انتشار کی حالت کاشکار ‘‘ ریاست قراردیا۔یہ جنگی صورتحال کی تصویریں او رلفظی جھڑپ اس قدر تیز تھی کہ اس کشیدگی سے منسلک اصلی موضوع کہیں لاپتہ ہوگیا‘ جو دراصل شاردا اور دیگر چٹ فنڈ اسکام کی تحقیقات پر مشتمل ہے جس میں ہزاروں چھوٹی سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور اس میں کچھ برسراقتدار ٹی ایم سی کے سیاسی قائدین بھی ملوث ہیں‘ جن میں کچھ نے بی جے پی میں بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مگر پھر بھی شاردا تحقیقات مغربی بنگال کی سیاست کا مرکز توجہہ نہیں بن سکا۔ بدعنوانیو ں کے خلاف بڑے بڑے دعوئے ‘ دستور اور فیڈرلزم کی دونوں جانب سے دعوی ‘ صرف ایک جزوی وقت کی سیاسی حساب کتاب تک محدود ہوگئی ہے۔

عام انتخابات کے لئے کچھ مہینے ہی باقی ہیں ‘ ممکن ہے کہ مغربی بنگال سے اتوار کے روز منظرعام پر آنے والی تصویر جنوری کے مہینے میں ٹی ایم سی کی جانب سے منعقدہ ہوئے کلکتہ کے اسٹیج جس پر 23مختلف سیاسی جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیاتھا اس کی یاد تازہ کردیں گی۔

اگر جہاں تک معاملہ کی بات کریں تو مرکز او ر مغربی بنگال دونوں کی برسراقتدار سیاستی جماعتوں کی اس پر جوابدہی ضروری ہوجاتی ہے۔

اور جہاں تک ریاست میں انتخابی مہم کے پس منظر میں جہاں پر ٹی ایم سی کا بڑا اثر ہے اور بی جے پی ترقی کررہی ہے ریاستی وسائل کے استحصال کی شروعات ہے ‘مرکز میں برسراقتدار بی جے پی زیادہ قصور وارمانی جائے گی۔بنگال کی سیاست میں سیاسی ہلچل کے لئے سی بی ائی کی کاروائی کا وقت اور انداز۔

عدالت کو چاہئے کہ مرکزاو رریاست دونوں کو اس کا قانونی سبق پڑھائی۔مختصر مدت کے لئے پارٹی کو کلکتہ کے مظاہرے سے فائدہ حاصل ہوسکتا ہے‘ کیونکہ ممتا بنرجی نے صاف طور پر اپنی گلی کی سیاست کا احیاء عمل میں لایا ہے اور اس کام کے لئے انہوں نے اپوزیشن کی اہم ساتھیوں کو دوبارہ ایک ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

مگر طویل مدت میں اس کے اثرات کا اگر جائزہ لیں تو دستوری جمہوریت کے ماحول کا بنانے میں کلکتہ کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔جس طرح کی ڈرامائی صورتحال کلکتہ میں پیش ائی اس کے بعد سی بی ائی عدالت سے رجوع ہوئی اورمنگل کے روز اس معاملے پر سپریم کورٹ کی بنچ نے اس پر سنوائی بھی کی تاکہ ڈرامائی صورتحال کے متعلق قوانین کی کتاب کا مطالعہ کیاجاسکے

Leave a Comment