مہاتماگاندھی کے دوبارہ قتل کی منظرکشی کرنے والی ہندو مہاسبھا لیڈر کی گرفتاری 

مہاتما گاندھی کے قتل کے تمثیلی مظاہرہ کرنے والی پوجا پانڈے کو علی گڑھ سے گرفتار کیاگیا۔
علی گڑھ۔اترپردیش پولیس نے 30جنوری کو برسی کے موقع پر مہاتما گاندھی کے قتل تمثیلی مظاہرہ کرنے والے کل ہند ہندو مہاسبھا کی لیڈر پوجا پانڈے اور اس کے شوہر اشوک پانڈے کو گرفتار کرلیاہے۔

نیوز ایجنسی اے این ائی نے اس بات کی خبر دی کہ ہند و مہاسبھا کے لیڈر کو یوپی کے تاپال سے گرفتار کیاگیاہے۔علی گڑھ میں اپنی گرفتاری کے بعد پوجا پانڈے نے رپورٹر س سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ کوئی شرمندگی نہیں ہے ۔ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ ہم نے اپنے دستور ی حق کا استعمال کیاہے‘‘۔

قبل ازیں پانچ لوگوں کومبینہ طورپر مہاتماگاندھی کا علامتی پتلا نذر آتش کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیاتھا۔مذکورہ گرفتار لوگوں پر الزام تھا کہ انہو ں نے علامتی پتلے پر گولیاں چلائیں ‘ پھر مہاتما گاندھی کے پتلے کو نذر آتش کیا۔

https://www.youtube.com/watch?v=ci3RY8WS5uw

بعد ازاں واقعہ ایک ویڈیو منظرعام پر آیاجس میں ملزمین مخالف مہاتما گاندھی نعرے لگارہے ہیں اور ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی ستائش کررہے ہیں۔واقعہ پر پولیس نے ایک مقدمہ نفرت کو فروع دینے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثرکرنے کا درج کیا۔

ملزم پوجا پانڈے ہند و مہاسبھا کی قومی جنرل سکریٹری ہے۔ اس ویڈیو میں وہ علامتی پتلے پرگولیاں چلاتے دیکھائی دے رہی ہے ۔ اس ویڈیو میں وہ مہاتما گاندھی کے قتل کو حق بجانب قراردیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

مہاتما گاندھی کی برسی کے موقع پر ہندو مہاسبھا نے علی گڑھ میں ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں تنظیم کے کارکنوں نے گوڈسے کے پتلے پر گلپوشی کی اور میٹھائیاں بھی تقسیم کی تھیں۔

تنظیم نے پتلا نذر آتش کرنے کے بعد یہ اعلان کیا کہ ٹھیک اسی طرح وہ ہرسال گاندھی کاپتلا ٹھیک اسی طرح جلائیں گے جس طرح دسہرہ میں روان کا پتلا جلایاجاتا ہے۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ہندو مہاسبھا نے گاندھی کے قتل پر ناتھو رام گوڈ سے کی ستائش کی ہے۔

ہندو مہاسبھا کے لیڈر سوامی پروانندا نے 2015میںیہ اعلان کیاتھا کہ کرناٹک کے چھ اضلاع میں گوڈسے کا مجسمہ نصب کیاجائے گا۔ اس کے علاو ہ اپنے دعوے میں گوڈ سے انہو ں نے ’’ حب الوطن‘‘ بھی قراردیاتھا

۔یہ سال مہاتما گاندھی کی پیدائش کے 150ویں سال کے طورپر منائے جائے گاجس کی پیدائش 2اکٹوبر1869میں ہوئی تھی ۔

اسی سال کے یوم جمہوریہ میں پریڈ میں بھی اس بات کی جھلکیاں دیکھائی دے جس میں22بڑی جھانکیوں کو گاندھی سے موسوم کیاگیاتھا۔ہندوستان میں مہاتماگاندھی کی موت کے دن کو یوم شہیداں کے طور پر منایاجاتا ہے۔

تاہم ہندو مہاسبھا اس کو ’’ یوم جیت‘‘ کے طور پر مناتی ہے تاکہ باپو کے قاتل ناتھو رام گوڈ سے کو اعزاز دیاجاسکے‘ گوڈسے بھی ہندو مہاسبھا ایک رکن تھا۔ مجاہد آزاد ی مدن موہن مالویہ نے 1915میں ہند و مہاسبھا کا قیام عمل میں لایاتھا۔

Leave a Comment