حلالہ کیس کی پیروکار پر تیزاب حملہ کی شکایت جھوٹی‘ یوپی پولیس کا بیان

میرٹھ۔ اترپردیش کے بلند شہر میں پولیس نے ثمینہ بیگم جو نکاح حلالہ ‘ کثرت ازدواج کے خلاف خود ساختہ جدوجہد کررہی ہیں کو خود کے اوپر اپنے دوساتھیوں کے ساتھ ملکر من گھڑت تیزاب حملہ کرنے اور فرضی مقدمہ درج کرانے کا ملزم ٹہرایا۔ ان کے دو مبینہ مرد ساتھیوں کو گرفتار بھی کرلیاگیا ہے۔

سپریڈنٹ آف پولیس( سٹی) پروین رنجن سنگھ نے کہاکہ’’اسی سال14اکٹوبر کو انہو ں نے اپنے شوہر کے خلاف تیزاب حملے کا ایک کیس درج کرایاتھا۔ تاہم اس وقت سے کیس میں شبہ تھا‘ ایک پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور معاملے کی تحقیقات بھی کی۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ بیگم اپنے دوساتھیوں نریندر پالی وال او رڈی سی ورما نے یہ سارا معاملہ تیار کیاتھا۔ جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف طور پر دیکھاجاسکتا ہے‘‘

۔سنگھ’’یہ بھی جانکاری میں آیا ہے کہ سابق میں بھی اس نے تیزاب حملوں کے جھوٹے کیس درج کرائے ہیں۔ایک واقعہ بلند شہر سے ہے جس میں شبنم شامل تھی۔اس واقعہ میں سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے طبی علاج اور سکیورٹی کی ہدایت دی تھی‘ اور سامبھال میں راضیہ خاتون بھی ملوث تھی۔

ہم ثمینہ بیگم کے خلاف شواہد اکٹھاکرنے میں مصروف ہیں۔ایک بار یہ کام ہوجائے تو اس ان کے خلاف بھی ایک کیس درج کریں گے‘‘۔تاہم ثمینہ بیگم نے پولیس پر انہیں بدنام کرنے کی سازش اور ان کی ہلالہ کے خلاف مہم میں رکاوٹ کھڑا کرنے کا الزام لگایا۔

انہو ں نے کہاکہ ’’میں ہمیشہ تین طلاق کی متاثرہ اور دیگر کے ساتھ کھڑی ہوں۔پولیس مجھے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔

تین بچوں کی ماں اور دہلی کی ساکن ثمینہ نکاح ہلالہ اور کثرت ازدواج کے خلاف عدالت عظمہٰ میں مرکزی درخواست گذار ہیں ۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرنے والے پولیس کو جانچ میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ نریندر پلوال اور ڈی سی ورما نے پوری واقعہ انجام دیا ہے۔