انسانی بم تو نہیں پھٹا ‘ لیکن میں برباد ہوگئی۔ سعدیہ

پونے۔ نرسنگ کے کورس میں داخلہ کے لئے پہنچی 18سال کی سعدیہ شیخ کو 25جنوری کو جموں وکشمیر میں انسانی بم ہونے کے شک میں گرفتار کرلیاگیا۔جانچ میں اطلاع غلط نکلی اور سعدیہ کو چھوڑ دیاگیا‘ لیکن اس سے اس کی زندگی میں مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

سعدیہ کے بارے میں اطلاعات عام ہونے سے انہیں بیحد پریشانی ہورہی ہے ۔ سری نگر میں گذشتہ روز ماں کے ساتھ واپس ائی سعدیہ نے بتایا کہ 26جنوری سے قبل مجھے پتہ چلا کہ میرا نام انسانی بم کے طور پر سامنے آرہا ہے ۔

میں نے ماں سے اس سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس پونے میں میرے گھر گئی تھی۔انہوں نے مجھ سے کہاکہ مجھے یا تو 26جنوری سے پہلے پونے واپس آنا ہوگا یا وہیں پولیس سے بات کرنی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پوچھ گچھ میں سوالات کے جوابات دینے اور ثبوت پیش کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیاگیا۔

سعدیہ نے کہاکہ کسی رپورٹ میں یہ نہیں کہاگیاتھا کہ میں مجرم ہوں‘ نہ ہی مجھے گرفتار کیاگیا اور نہ ہی عدالت میں پیش کیاگیا۔ اطلاع تھی کہ حملہ ہوسکتا ہے یہ نہیں کہ میں ہی حملہ کروں گی۔ خود کش دھماکہ نہیں ہوا مگر میں برباد ضرور ہوگئی۔