ہاپوڑ میں فرقہ پرستوں کی شر پسندی ‘ پرامن فضاکو مکدر کرنے کی کوشش‘ مسجد میں گھس پر امام کے اتھ مارپیٹ

File Pic

خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی ‘ فرقہ پرستوں کی حرکت کو دبانے کی کوشش میں پولیس مصروف

ہاپوڑ۔ہندوستانی فضائیہ حملے کے بعدایک طرف جہاں پور ا ملک جشن منارہا تھا وہیں شر پسند عناصر نے مسلم گھروں کونشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ مچائی ۔

شرپسند عناصر نے مسلم گھروں کے دروازے توڑے اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے جم کر مارپیٹ کی ۔ شرپسندوں نے گاؤں میں بنی مسجد کو بھی نہیں بخشا۔مسجد میں توڑ پھوڑ کرکے امام کے ساتھ مارپیٹ کی گئی او رمسجد کے اندر گندگی ڈال کر جم کر ہنگامہ کیاگیا۔

دہشت زدہ مسلمانوں نے کسی طرح اپنی جان بچائی او رواقعہ کی اطلاع پولیس کو دی۔اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلی حکام موقع پر پہنچے اور حالات پر قابو پالیا۔ اس دوران ایک خاتون کے ہاتھ میں فریکچر بتایاگیاہے۔پولیس نے موقع سے کسی کی بھی گرفتاری نہیں کی ہے۔

پولیس معاملہ کورفع دفع کرنے میں لگی ہے ۔ جبکہ مسلم طبقہ کے لوگ دہشت کے سائے میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اطلاع کے مطابق فضائیہ حملہ کے بعد منگل کے روز پوری ملک میں جشن کا ماحول تھا۔ صبح سے ہی ترنگا ریالی نکال کر سبھی مذاہب کے لوگ جشن منارہے تھے ۔

وہیں منگل کی شب تھانہ کوتوالی کے تحت موضع بدنولیمیں چند شرپسند عناصر جشن کے دوران مسلم گھروں پر دھاوا بول دیا۔

شر پسندوں نے فرقہ وارنہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم گھروں کے دوروازے توڑ دئے۔گھروں میں پتھراؤ کیااور گھروں میں گھس کر مرد وخواتین کے ساتھ جم کر مارپیٹ کی۔ اس دوران زبیر کی اہلیہ افسانہ پرلاٹھی سے حملہ کرکے اس کاہاتھ توڑ دیا۔

عمرکے گھر کی دیوار توڑ دی گئی اورمسجدمیں گھس کرامام کے ساتھ مارپیٹ کی ۔ شر پسند عناصر نے مسجد کے اندر گندگی بھردی۔پوری گاؤں میں مسلم طبقے کے لوگ دہشت میں آگئے اکثر یتی فرقہ کے لوگوں نے محمد علی‘ محمد‘ نسیم الدین ‘ زبیر‘ مستقیم او رانتظار کے گھر کے دروازے توڑنے کے بعدجم کر پتھراؤ کیاجس کی اطلاع پولیس کو دی گئی ۔

اطلاع ملتے ہی ایسڈی ایم صدر ستیہ پرکاش ‘ ڈی ایس پی راجیش کمار سنگھ‘ اور تھانہ کوتوالی انچار ج مہاویر سنگھ فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اورکسی طرح سے حالات پر قابو پایا۔پولیس نے موقع سے کسی کی گرفتاری نہیں کی۔ رات بھر لوگ دہشت کے سائے میں رہے ۔

پولیس معاملہ کو رفع دفع کرنے میں لگ ہے جبکہ مسلم سماج کے لوگوں نے اس معاملے میں تحریر دے کر کاروائی کا مطالبہ کیاہے ۔ پولیس معاملہ کودبانے میں لگی ہے

TOPPOPULARRECENT