مظفر نگر فرضی انکاونٹر پر یوپی حکومت‘ ڈی جی پی کے نام نوٹس جاری

قومی انسانی حقوق کمیشن ( این ایچ آر سی ) نے کہاکہ پولیس پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں تحفظ فراہم کریں اور ’’ اس لئے نہیں کہ جرائم کی روک تھام کے نام پر لوگوں کے اندر خوف پیدا کیاجائے ‘‘

نئی دہلی۔مذکورہ ایچ ایچ آر سی نے اترپردیش حکومت اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے مظفر نگر میں نوجوان کے مبینہ فرضی انکاونٹر پر اندرون چار ہفتے رپورٹ طلب کی ہے۔

جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں قومی انسانی حقوق کمیشن ( این ایچ آر سی) نے کہاکہ پولیس پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں تحفظ فراہم کریں اور ’’ اس لئے نہیں کہ جرائم کی روک تھام کے نام پر لوگوں کے اندر خوف پیدا کیاجائے ‘‘۔

انہوں نے کہاکہ انکاونٹر میں ہونے والی کوئی بھی حق بجانب قرارنہیں دیاجائے گا‘ حساس جرم کی سزا بھی ایسی ہونی چاہئے‘‘۔

کمیشن کے پینل نے کہاکہ ’’ مذکورہ این ایچ آر سی نے میڈیارپورٹس پر ذاتی طور سے کاروائی کی ہے جس مظفر نگر ضلع کے ساکن بیس سالہ ارشد احمد کو 27نومبر کے روز اترپردیش پولیس نے مبینہ فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیاہے۔

مبینہ طور پر ان کے والد نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی کوئی مجرمانہ سرگرمی نہیں تھی اور نہ کو ئی مجرمانہ ریکارڈ تھا اس کو فرضی انکاونٹر میں ناحق کے قتل کردیاگیاہے‘‘۔

نوٹس میں چیف سکریٹری اور ڈی جی پی پولیس سے اندرون چارہفتے رپورٹ طلب کی ہے۔