مخالف فسطائی فرنٹ چاہتا ہے کہ دہشت گرد دلت اورمسلم طاقتوں کو متحد کرے۔پونے پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ دستاویز

دستاویز کا عنوان ہے’ مخالف فسطائیت فرنٹ کی پہل کے لئے ایک تجویز‘‘بات کی گئی ہے لوگوں کے ’’ دہشت گردحصہ ‘‘ کی تشہیر کے متعلق‘ جس کے فرنٹ تمام سطحوں پر کام کررہا ہے‘ گاؤں میں چھوٹے اور ٹاؤن اور شہروں میں۔

نئی دہلی۔ چہارشنبہ کے روز پونے پولیس نے عدالت میں ایک دستاویز پیش کرت ہوئے پانچ سماجی کارکنو ں کی گرفتاری کو حق بجانب قراردیا ہے او رمبینہ طور پر سے ’’ برہمنی و فسطائی ہندوطاقتوں ‘‘ کی مخالفت میں ماؤسٹ حکمت عملی نافذ کی جاسکے اور اس کے لئے ’’ زیادہ شدت پسند‘‘ بشمول دلت اور مسلم فورسس کو متحد لانے کے لئے کام کیاہے۔

دستاویز کا عنوان ہے’ مخالف فسطائیت فرنٹ کی پہل کے لئے ایک تجویز‘‘بات کی گئی ہے لوگوں کے ’’ دہشت گردحصہ ‘‘ کی تشہیر کے متعلق‘ جس کے فرنٹ تمام سطحوں پر کام کررہا ہے‘ گاؤں میں چھوٹے اور ٹاؤن اور شہروں میں۔

مذکورہ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے پبلک پراسکیوٹر اوجوال پاؤر نے گرفتاری کو حق بجانب قراردیتے ہوئے ریمانڈ کی مانگ کی تھی میں دعوی کیاگیا ہے کہ پونے پولیس نے 6جون کو جن پانچ لوگوں کو گرفتار کیاگیا تھا ان کے پاس سے مذکورہ دستاویز ضبط کئے گئے ہیں اور وہ تمام گرفتار شدگان یرواڈا جیل میں قید ہیں۔

دستاویز کا خصوصی حصہ پبلک پراسکیوٹر نے عدالت میں نہیں سنایا مگر انڈین ایکسپریس نے ضرور دیکھا ہے۔عدالت میں بحث کرتے ہوئے پاؤر نے زوردیاکہ پانچ گرفتار لوگ گوتم نولاکھا‘ سدھا بھردواج‘ ورا وراراؤ‘ ارون فریرا اور ویرنان گونزالویس دراصل ممنوعہ سی پی ائی ۔

ماؤسٹ کے ’ ’ سرگرم کارکن‘‘ ہیں اور یہ لوگ منتخب حکومت کو نکال پھینکنے کے لئے ’’ مخالف فسطائیت فرنٹ‘‘ کی تشکیل کی سازش کررہے تھے۔

مذکورہ مبینہ دستاویز کے مطابق فرنٹ ساوتھ تاملناڈو اور گجرات میں دلت فورسس پر مشتمل فرنٹ کی تشکیل عمل میں آچکی ہے اور کیرالا‘ کرناٹک او رمہارشٹرا میں مسلم اقلیتی فورسس میں’’ سینکڑوں کیڈرس کو دہشت گردی کی تربیت ‘‘ دی جارہی ہے۔

دستاویز میں اس بات کا بھی دعوی کیاگیا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے دلتوں او رمسلمانوں پر حملے کے واقعات کے پیش نظر اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں انہیں مدد ملی ہے۔پاؤر نے عدالت سے چہارشنبہ کے روز کیاکہ سی پی ائی ۔ ماؤسٹ کے ایسٹرن ریجنل بیورو کی ایک میٹنگ میں فرنٹ کی تشکیل کاائیڈیا سامنے آیا۔

Leave a Comment