بہار میں آندھراپردیش او رمغربی بنگال کی مچھلیوں کی فروخت پر پابندی ، یہاں مچھلیاں کھانے کے قابل نہیں ، محکمہ صحت بہار کی رپورٹ

بہار میں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال کی مچھلیوں کی فروخت پر روک لگا دی گئی ہے۔ محکمہ صحت نے آئندہ 15 دنوں تک مچھلی کی فروخت پر روک لگائی ہے۔ فی الحال یہ روک پٹنہ میں رہے گی۔ محکمہ صحت، بہار کے پرنسپل سکریٹری سنجے کمار نے کہا کہ ’’گزشتہ دنوں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال سے فروخت کے لیے آئی مچھلیوں کے نمونوں کی جانچ کی گئی تھی۔ جانچ میں یہ مچھلیاں کھانے کے قابل نہیں پائی گئیں۔ ایسی حالت میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔‘‘

سنجے کمار نے اس تعلق سے مزید کہا کہ ’’پٹنہ کے 10 الگ الگ مقامات سے مچھلی کے نمونے لے کر کولکاتا کی ایک لیب میں جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس جانچ میں 10 میں سے 7 معاملوں میں فرمیلن اور دیگر مضر عناصر پائے گئے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ فی الحال یہ روک صرف پٹنہ میں 15 دنوں کے لیے لگائی گئی ہے اور اس کے بعد محکمہ صحت آگے کا فیصلہ لے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ان دو ریاستوں سے آنے والی مچھلیوں کی ذخیرہ اندوزی اور ٹرانسپورٹیشن پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اگر آج سے پٹنہ میونسپل کارپوریشن حلقہ میں کوئی مچھلی فروخت کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اسے 7 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔‘‘

سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ’’اس کے لیے پٹنہ ضلع مجسٹریٹ کو جانچ کا ذمہ سونپا گیا ہے۔ محکمہ صحت نے اس سلسلے میں حکم جاری کر دیا ہے۔ اس کے لیے بیداری مہم بھی چلائی جائے گی۔‘‘ خبروں کے مطابق فارمیلن کا جسم میں پہنچنا بہت مضر ہوتا ہے۔ اس کے اثر سے ہاضمہ میں پریشانی ہوتی ہے اور پیٹ درد سے لے کر ڈایریا تک کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے کڈنی اور لیور کی سنگین بیماریوں سمیت کینسر کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ مچھلی کو سڑنے سے بچانے کے لیے بھی فارمیلن کا استعمال ہوتا ہے۔ مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لیے تاجر کیمیائی مادّہ فارمیلن کا لیپ لگا دیتے ہیں۔

Leave a Comment