سرینگر 15جون (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر کے سرکردہ صحافی سید شجاعت بخاری کو جمعہ کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کریری میں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ مقتول کی نماز جنازہ میں برستی بارش کے باوجود صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ان اہم شخصیات میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یٰسین ملک، ریاستی وزیر و حکومتی ترجمان نعیم اختر، کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز اور درجنوں علیحدگی پسند لیڈران شامل ہیں۔ پولیس نے ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔ قریب تین دہائیوں تک میڈیا سے وابستہ رہنے والے شجاعت بخاری کو جمعرات کی شام نامعلوم بندوق برداروں نے پریس کالونی سری نگر میں اپنے دفتر کے باہر نزدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔ حملے میں ان کے دو ذاتی محافظوں کو بھی قتل کیا گیا۔ شجاعت بخاری گذشتہ قریب دو دہائیوں سے سری نگر کے مضافاتی علاقہ میں مقیم تھے ۔ تاہم ان کے خاندان نے انہیں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کرنے کا فیصلہ لیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شجاعت کی میت کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جمعرات کی رات دیر گئے پولیس کنٹرول روم کشمیرسے ان کے آبائی گھر کریری منتقل کیا گیا جہاں جمعہ کو دوپہر کے وقت انہیں سپرد لحد کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ کریری میں واقع حاجی مراد بخاری (رح)کے آستان شریف سے ملحقہ وسیع و عریض میدان میں پڑھی گئی۔ بتادیں کہ پریس کالونی سرینگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے جمعرات کی شام قریب سواء سات بجے سینئر صحافی شجاعت بخاری کی گاڑی پر فائرنگ کرکے انہیں اور ان کے دو شخصی محافظین (پی ایس اوز) کو ہلاک کردیا۔
شجاعت بخاری کا قتل، بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ
سری نگر15جون (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیموں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ نے سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے اس قتل کے لئے انڈین ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔مقامی میڈیا کے مطابق حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے شجاعت بخاری کے قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں بخاری کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ (مسٹر بخاری) کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو ہمیشہ اپنے اخبار کے ذریعہ اجاگر کرتے تھے ۔ سید صلاح الدین نے قتل کے اس واقعہ کی کسی بین الاقوامی ایجنسی سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ شجاعت بخاری کے قتل کے پیچھے انڈین ایجنسیوں اور ان کے ایجنٹ کار فرما ہوں گے ۔ لشکر طیبہ نے بھی قتل کے اس واقعہ کے لئے ہندوستانی ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے ایک بیان میں کہا کہ شجاعت بخاری کی ہلاکت کی سازش مقامی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے بنی گئی ہے ۔ انڈین ایجنسیوں کو ہر اُس شہری کے ساتھ عداوت ہے جو تحریک آزادی کے تئیں مخلص ہے ۔ دنیا کو ہندوستان کی بدترین سازشوں کی طرف دھیان دینا چاہیے ۔
ایڈیٹر کے قتل کے باوجود’رائزنگ کشمیر‘ کا سفر جاری
سری نگر، 15 جون (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں جمعرات کی شام ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر خونین حملے کے باوجود انگریزی روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘کا سفر جاری رہا۔ اخبار کے مدیر اعلیٰ سید شجاعت بخاری کی اپنے دفتر کے باہر اپنے دو ذاتی محافظین کی ہمراہ ہلاکت کے باوجود ’رائزنگ کشمیر‘نے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے جمعہ کے روز اخبار شائع کیا۔ اخبار کے پہلے پورے صفحہ پر شجاعت بخاری کی تصویر اور خراج عقیدت کے الفاظ شائع کئے گئے ہیں۔ معمول کے برعکس اخبار کا پہلا صفحہ سیاہ اور سفید رنگ میں پرنٹ کیا گیا ہے ۔ چار لائنوں پر محیط خراج عقیدت کے پیغام میں کہا گیا ’آپ ہم سے اچانک جدا ہوگئے ۔ لیکن آپ کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مثالی جرات ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوگی۔ ہم آپ کی زندگی چھیننے والے بزدلوں سے مرعوب نہیں ہوں گے ۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے ، ہم آپ کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ اللہ آپ کو جنت نصیب کرے ‘۔ رائزنگ کشمیر نے اپنے ’مدیر اعلیٰ‘کے قتل کی خبر صفحہ تین پر شائع کی ہے ۔ خبر کی تین سرخیوں میں لکھا گیا ہے ’شجاعت کو خاموش کردیا گیا (شہ سرخی)۔ نڈر صحافی کو سچ لکھنے کی قیمت ادا کرنی پڑی (ذیلی سرخی)۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ’رائزنگ کشمیر‘کا صفحہ اول ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘شو جاری رہنا چاہیے ۔