ڈھاکہ ۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 2004ء میں ہوئے دستی بم حملے میں جس میں 24 افراد ہلاک اور 500 افراد زخمی ہوگئے تھے، ملوث 19 افراد کو سزائے موت اور دیگر 19 افراد کو جن میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمن بھی شامل ہیں، کو سزائے عمر قید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ زخمی ہونے والوں میں اس وقت کی اپوزیشن قائد شیخ حسینہ بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 21 اگست 2004ء کو عوامی لیگ کی ریالی پر دستی بم حملے کئے گئے تھے، جس کا مقصد شیخ حسینہ کو نشانہ بنانا تھا، جو اس وقت ملک کی وزیراعظم ہیں، موصوفہ اس وقت تو حملے میں بال بال بچ گئی تھیں لیکن ان کی قوت سماعت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آج بھی اونچا سنتی ہیں۔ عدالت کی جانب سے جن 19 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے، ان میں سابق وزیر لطف الزماں بابر بھی شامل ہیں جبکہ طارق رحمن جو بی این پی کے سینئر نائب صدر ہیں، اور اس وقت لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، کے علاوہ دیگر 18 افراد کو سزا کے عمر قید سنائی گئی ہے۔