ہند ۔ چین افواج کیلئے ’’حکمت عملی پر مبنی رہنمائی‘‘ سے اتفاق

مستقبل میں ڈوکلم جیسے تعطل کو روکنے کی کوشش ، اعتماد سازی ، مواصلاتی رابطوں میں استحکام پر زور ، مودی ۔ ژی چوٹی کانفرنس کا اختتام

مسعود اظہر کا مسئلہ نہیں اُٹھایا گیا
دہشت گردی روکنے میں تعاون سے اتفاق

ووہان۔ 28 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر ژی جن پنگ نے اپنی فوجوں کو باہمی اعتماد سازی اور مفاہمت کے علاوہ رابطوں میں استحکام کیلئے ’’حکمت عملی کی رہنمائی‘‘ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان کے ایک سرکردہ سفارت کار نے یہ انکشاف کیا اور کہا کہ مستقبل میں ڈوکلم جیسی صورتحال سے گریز کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ صدر ژی سے ان کی بات چیت ہند۔ چین تعاون کے وسیع تر شعبوں پر مرکوز رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے اپنے اقتصادی تعلقات اور عوام سے عوام کے رابطوں کے فروغ کیلئے مختلف امکانات پر گفت و شنید کی۔ زراعت، ٹیکنالوجی، توانائی اور سیاحت وہ دیگر شعبے ہیں جن پر بھی ہم نے بات چیت کی ہے‘‘۔ ان دونوں قائدین کی وسطی چینی شہر میں دو روزہ غیررسمی چوٹی کانفرنس کے اختتام کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے معتمد خارجہ وجئے گوکھلے نے کہا کہ دونوں قائدین نے ہند۔ چین سرحد پر تمام علاقوں میں امن و استحکام کی برقراری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ گوکھلے نے مزید کہا کہ ’’اس ضمن میں انہوں (مودی اور ژی) نے سرحدی امور سے موثر انداز میں نمٹنے، قیاس میں توسیع، باہمی سوجھ وجھ و مفاہمت اور اعتماد سیزی کے مقصد سے اپنی متعلقہ افواج کو مواصلاتی رابطے میں استحکام کیلئے حکمت عملی کے رہنمایانہ احکام جاری کئے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں قائدین نے اپنی افواج کو جانبین کی طرف سے قبل ازیں متعلقہ اعتماد سازی کے مختلف اقدامات پر اخلاص و سنجیدگی سے روبہ عمل لانے کی ہدایت کی۔ ان میں سرحدی علاقہ پر کسی ناخوشگوار واقعہ کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کیلئے معلومات کے تبادلے کا میکانزم، موجودہ ادارہ جاتی سمجھوتوں کا استحکام، باہمی و مساویانہ سکیورٹی کے اصول پر عمل آوری بھی شامل ہے۔ مودی اور ژی نے سرحدی مسئلہ پر واجبی، منصفانہ اور قابل قبول حل تلاش کرنے دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے کام کی توثیق و ستائش کی۔ ہندوستان اور چین 3,488 کیلومیٹر طویل خط حقیقی قبضہ پر امن برقرار رکھنے کے مختلف میکانزمس کی تیاری اور سرحدی مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کے طور پر دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے مابین تاحال 20 مرحلوں میں بات چیت ہوچکی ہے۔ گوکھلے کے ان ریمارکس کو اس لئے بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ مودی اور ژی کے مابین ’’دل سے دل‘‘ کے زیرعنوان یہ پہلی غیررسمی چوٹی کانفرنس ہندوستان اور چین کی طرف سے باہمی تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ سال 73 روزہ ڈوکلم تعطل و صف آرائی کے سبب متاثر ہوئے تھے۔ان دونوں مودی اور ژی نے دہشت گردی سے لاحق مشترکہ خطرہ کو تسلیم کیا اور دہشت گردی کے انسداد کے لئے مزید تعاون سے اتفاق کیا۔ اس سوال پر کہ آیا جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا تھا، گوکھلے نے جواب دیا کہ دونوں قائدین نے کسی مسئلہ پر خصوصی کے ساتھ تبادلہ خیال نہیں کیا۔ مسعود اظہر کو یو این کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کیلئے ہندوستان کی کوششوں کو بھی چین نے کئی بار ناکام بنادیا تھا۔