ہندی اور اُردو والوں کو ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کی ضرورت 

ہندی سہ ماہی ادبھاؤنا کا131واں شمارہ‘ عصمت چغتائی نمبر‘کی رسم اجراء دانشوارن کے ہاتھو ں عمل میں ائی‘ عالمی اُردو ٹرسٹ کے اے رحمن نے اُردو ہندی کی مشترکہ خدمات کے لئے پیش رفت کا اعلان کیا۔
نئی دہلی۔ خواتین کی سماجی صورت حال پر قلم کے ذریعہ جنگ لڑنے والی اور سماج کو اپنی تخلیقات کے ذریعہ بار بار جنجھوڑنے والی معروف خاتون مصنفہ عصمت چغتائی جن کو دنیا عین آپا کے نام سے جانتی ہے اور جنہوں نے افسانے نگاری ‘ ناول نگاری اور حاکہ نگاری کے انقلاب برپا کیا تھا ‘ انہیں آج بھی اہل علم اور اہل قلم بھول نہیں پارہے ہیں ۔ نئی دہلی کے پرگتی میدان میں لگائے جانے والے نیشنل بک ٹرسٹ کے عالمی کتب میلے گیان پیٹھ پبلی کیشنز کے اسٹاف پر انہیں عینی آپا پر سہ ماہی ادبھاونا عصمت چغتائی نمبر کا اجراء بدست عالمی اُردو ٹرسٹ کے چیرمن اے رحمن ایڈیٹر جانکی پرساد شرما ‘ شعبہ اُردو دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر صادق‘ ادبھاونا کی پبلی شراجے کمار‘ لیلادھر منڈوائی نور ظہیر عمل میں آیا۔اس موقع پر بولتے ہوئے اُردو او رہند زبان پر ایک ساتھدسترس رکھنے والے جانکی پرساد شرما نے کہاکہ ہندی اور اُردو والوں کو ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یہ عینی آبا جو شمارہ وجود میںآیا ہے میرے کاموں کا یہ حق حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں جس طرح ایک مذہب خاص کو ملک کی تہذیب کے ساتھ جوڑ کر پیش کیاجارہاہے یہ کھلے طور پر غنڈہ گردی ے جبکہ ملک کی تہذیب الگ بات ہے او رمذہب الگ معاملہ ہے۔ ہم لوگوں کو اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی اردو ٹرسٹ کے بانی اور چیرمن اے رحمن نے کہاکہ سال2010میں عالمی اُردو ٹرسٹ نے یہ اعلان کیاتھا کہ اُردو اور ہندی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ سال2012میں منٹو تقریبات کا افتتاحی جلسہ ہندی کی اہم شخصیات کے تعاون سے ہندی بھون میں منعقد کیاگیاتھا۔

سال2015می اجے کمار سے کے تعاون سے ادبھاؤنا کا سعادت جسن منٹو نمبر بھی نکالا گیاتھا جس میں عالمی اُردو ٹرسٹ نے تعاون کیاتھا۔ رحمن نے کہاکہ جانکی پرساد شرما جو اُردو اور ہندی دنوں زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں ان کی کوششوں کے سبب عصمت چغتائی نمبر جاری ہوسکا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ ہندی کے ناشرین اُرد و کلاسکی ادب کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ اے رحمن نے کہاکہ عالمی اُردو ٹرسٹ جلد ہی جانکی پرساد شرما کے ساتھ مل کر اُردو ہندی معاملے کو لے کر بہت سے منصوبے تیار کررہا ہے جن پر بہت جلد عمل درامد ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ جلد ہی ہم عصمت چغتائی پر ایک نمبر بھی نکالیں گے۔ یہاں موجد پروفیسر صادق نے مختلف خاتون قلم کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عصمت چغتائی کی صدائے احتجاج اپنے آپ میں ایک الگ کارنامہ ہے۔یہاں موجود معروف رائٹر نور ظہیر نے کہاکہ عصمت خالہ بہت سے راستوں کو کھولا ہے۔ لہاف ان کی معروف کہانی ہے اسی طرح ابرشن جس میں ایک خاتون کی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے سوالات سے سماج بیدا ہوا اور آج خواتین کو ان کا حق مل رہا ہے۔ اس موقع پر لیلادھر منڈلوئی روندر ترپاٹھی وغیر ہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔