ہندو تنظیمیں بدامنی پھیلانے کوشاں ، مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی سازش

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں فرقہ وارانہ تشدد، طلبہ پر حملے ، گڑگاؤں میں 10 مقامات پر نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا گیا

نئی دہلی ۔ 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے کی سازش کے حصہ کے طور پر ہندو تنظیموں نے ایسا معلوم ہوتا ہیکہ مسلمانوں کو زچ کرنے والی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہندوتوا کارکنوں نے طلبہ پر حملے کرتے ہوئے کیمپس کے ماحول کو فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوچار کردیا جبکہ دہلی کے قریب گڑگاؤں میں آج نماز جمعہ کے موقع پر مسلمانوں کو 10 مقامات پر نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ سیونکت ہندو سنگھرش سمیتی کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے زائد از 10 مقامات پر سینکڑوں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روک دیا ہے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی غرض سے ہندو تنظیموں نے کیمپس میں محمد علی جناح کے پورٹریٹ کو آویزاں کرنے کے خلاف پرتشدد احتجاج شروع کیا۔ پولیس نے بھی طلبہ کے خلاف آنسو گیس شیل برساتے ہوئے لاٹھی چارج کیا۔ اس تشدد کی وجہ سے سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کے خطاب کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ ہندو یووا واہنی سے وابستہ مسلح ارکان نے کیمپس میں گھس کر توڑپھوڑ مچادی۔ ان کارکنوں کو پولیس کی سرپرستی حاصل تھی۔ یہ لوگ محمد علی جناح کے پورٹریٹ کو ہٹادینے کا مطالبہ کررہے تھے جبکہ یہ پورٹریٹ اسٹوڈنٹس یونین ہال کے اندر گذشتہ 80 سال سے آویزاں ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، حیدرآباد یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج کے بعد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ان ہندوتوا تنظیموں کا تازہ نشانہ بن گئی ہے۔ ہندوتوا گروپس کے احتجاجی کارکنوں کا دعویٰ ہیکہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں قوم دشمن سرگرمیاں جاری ہیں۔ محمد علی جناح نے دراصل جدوجہد آزادی ہند میں سرگرم حصہ لیا تھا۔ ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کا موجب بننے والی وجہ ان کی مسلم لیگ کی جانب سے دو قومی نظریہ بنی۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب سابق صدرجمہوریہ حامد انصاری یونیورسٹی کے ایک جلسہ سے خطاب کرنے والے تھے۔ پولیس ملازمین کی سرپرستی میں ہندویووا واہنی کے 30 کارکنوں نے حامد انصاری کی تقریر سے قبل کیمپس میں گھس کر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے مرکزی باب الداخلہ باب سید پر جمع ہوکر نعرہ بازی شروع کی۔ ہندوستان میں جناح کیلئے اس طرح کی تعظیم کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ اگر تم لوگ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہو تو تمہیں وندے ماترم کہنا ہوگا۔ تمہیں جئے شری رام کہنا ہوگا۔ پولیس نے باب سید سے 50 گز دور پر ہی ان احتجاجیوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن ہندویووا واہنی کے کارکنوں نے پولیس کے سامنے پستولس اور دیگر ہتھیار لہراتے ہوئے گھس پڑے۔ ان کا یہ مظاہرہ یونیورسٹی طلبہ کیلئے جان کا خطرہ بن سکتا تھا۔ پولیس نے مجرمانہ طور پر چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے ان احتجاجیوں کو آگے بڑھنے دیا۔ اس گیٹ کے قریب یونیورسٹی کے طلبہ یونین کا دفتر موجود ہے۔ یہاں پر دیگر طلبہ بھی موجود تھے۔ ایسے میں ہندویووا واہنی کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور 6 کارکنوں کو پولیس کے حوالے کیا گیا لیکن پولیس نے ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا۔ ہندویووا واہنی کے کارکنوں پر طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے پولیس نے یونیورسٹی طلبہ پر لاٹھی چارج کیا جبکہ ہندوتوا کارکن یونیورسٹی کی جانب طلبہ پر سنگباری کررہے تھے۔ پولیس نے طلبہ کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں بری طرح زدوکوب کیا جس میں 65 طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ طلبہ یونین کے صدر مشکور احمد عثمانی، سکریٹری محمد فہد اور سابق نائب صدر مزین زیدی کو دواخانہ میں شریک کیا گیا۔ دو گھنٹوں تک بیہوشی کے بعد جب عثمانی کو ہوش آیا تو انہوں نے بتایا کہ سنگھ پریوار کے کارکنوں اور پولیس کی جانب سے منظم طریقہ سے ان پر حملہ کیا گیا ہے۔ مسلم یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کیلئے مٹھی بھر 30 ہندویووا واہنی کے ارکان کو کھلی چھوٹ دے رکھی گئی تھی۔ محمد علی جناح کا یہ پورٹریٹ یونیورسٹی میں 1938ء سے آویزاں ہیں۔ چہارشنبہ کے دن جس مقصد کے تحت یہ تنازعہ پیدا کیا گیا ہے یہ سراسر ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی سازش ہے۔ دوسری جانب دہلی کے قریب گڑگاؤں میں ہندوتوا گروپوں نے مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دیا۔ گذشتہ ہفتہ اور اس سے دو ہفتے قبل بھی ان ہندوتوا گروپوں نے سیکٹر 53 گروگرام میں نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے جمع 700 مسلمانوں کو وہاں سے چلے جانے کیلئے مجبور کیا تھا اور مخالف اسلام نعرے لگائے تھے۔ گروگرام سے 20 اپریل کو حاصل کردہ ویڈیو میں بتایا گیا کہ ہندوتوا گروپ کے ارکان نماز جمعہ کے دوران نعرے لگا رہے ہیں جبکہ مسلمانوں نے ضلع نظم و نسق سے کھلی اراضی پر نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔ اکھل بھارتیہ ہندو کرانتی دل کے نیشنل کوآرڈینیٹر راجیو متل نے کہا کہ کسی کو بھی یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص نمازگاہ کے طرف بڑھ کر مصلیوں کو نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کررہا تھا۔ تاہم سینئر پولیس عہدیداروں نے کہا کہ نماز میں خلل پیدا کرنے سے متعلق کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی ہے۔ ہماری ڈیوٹی لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا ہے۔ 20 اپریل کو وزیرآباد اور کنہائی کے ہندو کارکنوں نے مسلمانوں کو کھلی زمین پر نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔ 27 اپریل کو بھی انہوں نے نماز ادا کرنے نہیں دیا۔