نئی دہلی ۔ 13 جون (سیاست نیوز) ذرا تصور کیجئے کہ ایک کلاس میں ہندوستانی اور پاکستانی طلبہ ہم جماعت ہیں اور وہ مشترکہ نصاب پڑھ رہے ہوں ان کی فیکلٹی بھی ایک ہی ہو تو آپ کو کچھ عجب سا لگے گا لیکن ہر کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا سہرا ساوتھ ایشین یونیورسٹی کو جاتا ہے جہاں ہندوستان اور پاکستان کے یہ طلبہ بنگلہ دیش، افغانستان سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کے طلبہ کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ ان میں افغانستان کے 21، بنگلہ دیش کے 17، نیپال کے 11 طلبہ کے علاوہ پاکستان اور بھوٹان کے پانچ، پانچ، سری لنکا کا ایک اور ہندوستان کے 99 طلبہ شامل ہیں۔ ساوتھ ایشین یونیورسٹی امیدوں کے ساتھ شروع ہوئی۔ اس یونیورسٹی میں طلبہ ماسٹرس اور ڈاکٹریٹ کرتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ساوتھ ایشین یونیورسٹی غیرمعمولی طور پر علاقہ کی نوجوان نسل کے ذہنوں کو ایک نئی فکر و جہت عطا کررہی ہے تاکہ آگے چل کر یہ نوجوان علاقہ کے ملکوں اور عوام کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹ سکھیں۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان کیمپس کی میزبانی کرنا ہے اور یونیورسٹی چلانے کیلئے درکار مصارف میں سے نصف مصارف خود ادا کرتا ہے۔ اس یونیورسٹی کی خاص بات یہ ہیکہ اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی نصف تعداد کا تعلق ہندوستان کے باہر سے ہوتا ہے۔ جاریہ سال کے کانوکیشن (جلسہ تقسیم اسنادات) میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 22 بنگلہ دیش کے 17 نیپال کے، 11 پاکستان اور بھوٹان کے پانچ پانچ، سری لنکا کے ایک اور ہندوستان کے 99 طلبہ کو ڈگریاں عطا کی گئیں۔ یونیورسٹی کے نائب صدر اور سوشل سائنس کے ڈین سنسکا پیریرا کے مطابق یہ ایک نظریاتی پراجکٹ ہے جس کا مقصد جنوبی ایشیا کا ضمیر پیدا کرنا، تہذیبی و ثقافتی تعلقات کو مستحکم بنانا اور ریاستوں (مملکتوں) کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہیکہ یہ کوئی آسان وینچر نہیں ہے بلکہ فیکلٹی اور اسٹاف کیلئے ایک خصوصی SAU ویزا کی تخلیق کیا گیا۔ اس کے باوجود دستاویزات کی منظوری کیلئے ہنوز تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ویزوں کی اجرائی میں تاخیر پاکستانی طلبہ کے معاملہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ امسال پاکستان کے 6 طلبہ کو یونیورسٹی میں قبول کیا گیا یعنی داخلہ دیا گیا۔ تاہم یونیورسٹی کو تاحال ان کے ویزے جاری نہیں کئے گئے۔ نتیجہ میں یونیورسٹی ان پاکستانی طلبہ کے داخلہ منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ایک پاکستانی طالبہ ہیرا ہاشمی کہتی ہیں کہ انہیں ہندوستان میں اچھا تجربہ ہوا ہے خاص طور پر ہندوستانیوں کی صلہ رحمی و ہمدردی سے وہ متاثر ہوئی ہیں۔ جگر کے عارضہ میں مبتلاء رہنے کے باعث جب وہ ہاسپٹل میں زیرعلاج تھیں تب ان کی وارڈ میں شریک دوسری خاتون نے جو ان کی ماں کی عمر کی تھیں، دریافت کیا کہ تم اکیلے کیوں ہو اور تمہارا خاندان کہاں ہے؟ ہیرا ہاشمی مزید بتاتی ہیں کہ ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب اس خاتون نے کہا کہ اگر پاکستان واپس جانے میں وہ کسی قسم کی تکلیف ہو تو فکر نہ کریں، خاص طور پر روپئے پیسوں کی فکر ہرگز نہ کریں۔ اس خاتون کی پیشکش نے ہیرا ہاشمی کو رلا دیا اور آج اس واقعہ کو یاد کرتی ہیں تو ہیرا ہاشمی کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ہاشمی یہ بھی کہتی ہیں کہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں کافی معاملات میں یکسانیت پائی جاتی ہے اور یہ بندھن فطری ہے۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ایسا پراجکٹ ہے جسے سارک کے تمام مالک مالیہ فراہم کرتے ہیں۔ بہرحال علاقہ میں امن کیلئے یہ ایک اچھا قدم ہے جس کی ستائش کی جانی چاہئے۔