گورکھپور میں جیت کی مارجن کو برقرار رکھنے کے لئے یوگی ادتیہ ناتھ نے ’اورنگ زیب کے دور ‘ کا سہارا لیا

بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نہ صرف شکست بلکہ پچھلے2014کے لوک سبھا میں حاصل ووٹوں میں معمولی کمی بھی نہیں چاہتی‘ تاکہ مجوزہ 2019کے لوک سبھا انتخابات میں لوگوں کو غلط پیغام جائے۔
گورکھپور۔ اتوار کے روز گورکھپور پارلیمانی حلقہ کے ضمنی الیکشن کی آخری اور اپنی سولہویں پبلک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے کہاکہ سماج وادی پارٹی نے ’ درآمد کردہ‘امیدوار کو میدان میں اترا ہے اور یوپی ’’اورنگ زیب‘‘ کی ریاست میں حکمرانی نہیں چاہتا‘ واضح رہے کہ پچھلے پانچ مرتبہ یوگی ادتیہ ناتھ گورکھپور لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں

۔جمعہ کے روز گورکھپور میں چار انتخابی ریالیو ں سے خطاب کے دوران بی ایس پی کی ضمنی الیکشن میں ایس پی کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے یوگی ادتیہ ناتھ نے کہاکہ ’’جب ایس پی کو اندازہ ہوگیا کہ ان کہ ایمپورٹیڈ امیدار کا حربہ نہیں چل رہا ہے تو‘ انہوں نے ہاتھی( بی یس پی کا انتخابی نشان) کو سائیکل ( ایس پی کا انتخابی نشان) پر بیٹھا لیا‘جو سیکل پہلے سے ٹوٹی ہوئی ہے‘‘۔انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی نے مقامی پارٹی ورکر اوپیندر شکلا کو امیداور بنایا ہے جبکہ ایس پی کا امیدوار’’ درآمد کردہ‘‘ نشاد پارٹی لیڈر پروین کمار نشاد ہے۔

عوام کی جانب سے بہتر حکمرانی اور ترقی کو قائم رکھنے کے لئے انہوں نے کہاکہ ’’ لوگ ریاست میں اورنگ زیب کی حکمرانی نہیں چاہتے‘‘۔ ادتیہ ناتھ نشاط طبقے کے زیراثر انوال ٹاؤن میں سیجوانا اسمبلی حلقہ سے خطاب کررہے تھے ‘ جہا ں سے بی جے پی لیڈر اوما شنکر نشاد مجالس مقامی کے الیکشن میں چیرمن منتخب ہوئے ہیں۔

گورکھپور اور پھلپھورا لوک سبھا حلقہ میں ضمنی الیکشن کی انتخابی سرگرمی جمعہ کے روز ختم ہوگئی ‘ دونوں حلقوں پر اتوار کے روز رائے دہی مقرر ہے۔بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نہ صرف شکست بلکہ پچھلے2014کے لوک سبھا میں حاصل ووٹوں میں معمولی کمی بھی نہیں چاہتی‘ تاکہ مجوزہ 2019کے لوک سبھا انتخابات میں لوگوں کو غلط پیغام جائے۔

سال2019کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی اترپردیش کے 80لوک سبھا سیٹوں پر کامیابی چاہتی ہے سال2014میں بی جے پی 73سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔اپنے سولہا انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے یوگی ادتیہ ناتھ نے جیت کی مارجن میں اضافہ پر توجہہ دی ہے اور انہو ں نے لوگو ں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں گھر وں سے نکل کر ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔

سال2014کے عام انتخابات میں ادتیہ ناتھ نے 5.39لاکھ ووٹ لئے تھے ‘ وہیں ایس پی کے امیدوار راج ماتی نے 2.26لاکھ اور بی ایس پی کے رام بھوال نے 1.76لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے ۔ بعد میں بھوال بی جے پی میں شامل ہوگئے اور اب ایس پی میں ہیں۔کئی ریاستی وزرا نے گورکھپو رمیں انتخابی مہم چلائی ۔

بی جے پی نے زمینی سطح پر تنظیمی امور کو بہتر بنانے کے لئے ہندویوا وہانی کے قائدین کو پارٹی میں شامل کیاہے تاکہ آپسی خلفشار کا اثررائے دہندوں پر نا پڑسکے۔