تنازعہ کے بعد 78 سالہ گورنر بنواری لال پروہت کا اظہار ِمعذرت
چینائی۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) تملناڈو کے گورنر بنواری لال پروہت نے ایک خاتون صحافی کے رخسار کو تھپتھپانے کی وجہ سے تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ راج بھون میں خاتون کے رخسار کو تھپتھپاتے ان کی یہ تصویر وائرل ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 78 سالہ گورنر تملناڈو راج بھون میں بھیڑ بھاڑ والے پریس کانفرنس ہال سے جارہے تھے۔ خاتون صحافی لکشمی سبرامنیم ’’دی ویک‘‘ میں کام کرتی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے ٹوئٹ کیا’’میں نے پریس کانفرنس کے اختتام پر گورنر تملناڈو بنواری لال پروہت سے ایک سوال پوچھا تھا، انہوں نے بغیر میری اجازت کے میرے رخسار پر تھپتھپایا۔ حزب اختلاف ڈی ایم کے نے اس واقعہ کو ایک آئینی پوسٹ پر بیٹھے ہوئے فرد کے ’’وقار کے خلاف‘‘ کام قرار دیا۔ ڈی ایم کے کی راجیہ سبھا رکن کنی موزی نے ٹوئٹ کیا ’’اگر شک نہیں بھی کیا جائے تب بھی عوامی عہدہ پر بیٹھے ایک شخص کو اس کی عزت سمجھنی چاہئے اور ایک خاتون صحافی کے ذاتی عضو کو چھوکر وقار کا مظاہرہ نہیں کیا یا کسی بھی انسان کے تئیں دکھایا جانے والا احترام نہیں دکھایا۔ ڈی ایم کے ایگزیکٹیو صدر ایم کے اسٹالن نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ’’یہ نہ صرف بدقسمتی کی بات ہے بلکہ ایک آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص کی غلط حرکت ہے‘‘۔ اس تنامعہ کے بعد گورنر نے خاتون صحافی کے ای۔میل کا جواب دیتے ہوئے ان سے معذرت خواہی کی اور کہا کہ ان کا ارادہ کسی کی توہین کرنا نہیں تھا بلکہ خاتون صحافی کے پوچھے گئے سوال کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے اس کے گال کو تھپتھپایا تھا۔ اگر اس کو مسئلہ بنایا جارہا ہے تو میں اس پر اظہار تاسف کرتا ہوں‘‘۔