کے سی آر، جھوٹوں کے سردار،دھوکہ بازوں کے چمپئن

محبوب نگر کے قائد سید ابراہیم کی سینکڑوں حامیوں کیساتھ
کانگریس میں شمولیت، اتم کمار ریڈی کا بیان

حیدرآباد 9 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے سربراہ ٹی آر ایس و کارگذار چیف منسٹر کے سی آر کو جھوٹوں کا سردار، دھوکہ بازوں کا چمپئن اور مودی کا ایجنٹ قرار دیا اور کہاکہ ٹی آر ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو مستحکم کرنے کے مترادف ہے۔ محبوب نگر کے قائد سید ابراہیم کی کانگریس میں شمولیت کے بعد 12 فیصد مسلم تحفظات کا دھوکہ دینے والی ٹی آر ایس کو سبق سکھانے کی مسلمانوں سے اپیل کی۔ سید ابراہیم آج اپنے سینکروں حامیوں کے ساتھ گاندھی بھون پہونچ کر اتم کمار ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس موقع پر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخرالدین، سینئر قائد ظفر جاوید، صدر کانگریس ضلع محبوب نگر عبیداللہ کوتوال، جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین، عامر جاوید کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ کانگریس کو اقتدار حاصل ہوتے ہی سب سے پہلے اقلیتی سب پلان تیار کیا جائے گا اور آبادی کے تناسب سے فنڈس خرچ کئے جائیں گے۔ 2014 ء میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے اقتدار حاصل کرنے کے اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر وعدہ وفا کرنے کے بجائے بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے۔ مودی کے ایجنٹ کی طرح کام کرتے ہوئے بی جے پی اور این ڈی اے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کی تکمیل کے لئے تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کردیا۔ نوٹ بندی سے نائب صدرنشین راجیہ سبھا انتخابات تک ٹی آر ایس نے بی جے پی اور این ڈی اے کے ہر فیصلے کی آنکھ بند کرکے تائید کی۔ تحریک عدم اعتماد میں پارلیمنٹ سے غائب ہوتے ہوئے بالواسطہ طور پر بی جے پی کی تائید کی ہے۔ انتخابات میں دوبارہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اسمبلی اور لوک سبھا کے دو علیحدہ علیحدہ انتخابات کرائے جارہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں وہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی سے اتحاد کرنے کا پہلے ہی خفیہ معاہدہ کرچکے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ ٹی آر ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے مماثل ہوگا۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کا کوئی تحفظ نہیں ہے۔ تلنگانہ ریاست میں انکاؤنٹر کے واقعات نہ رہنے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر نے وقار احمد کے بشمول 5 زیردریافت مسلم قیدیوں کا بے رحمانہ قتل کردیا جو ہتھکڑیوں میں بند تھے۔ اس انکاؤنٹر کی تحقیقات رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ مکہ مسجد بم دھماکوں کے ملزمین رہا ہوگئے مگر ٹی آر ایس حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست نظرثانی داخل نہیں کی۔ ٹی آر ایس کے 4 سالہ دور حکومت میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ ریاست کی آبادی میں 15 فیصد آبادی رکھنے والے اقلیتوں پر 0.1 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ صرف کانگریس پارٹی ہی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے۔ کانگریس نے کسی کی جانب سے پوچھنے سے قبل تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے۔ تمام شعبوں میں اقلیتوں سے انصاف کیا گیا۔ اتم کمار ریڈی نے آئندہ انتخابات میں کانگریس کی بھرپور تائید کرنے اور دھوکہ دینے والی ٹی آر ایس کو سبق سکھانے کی اپیل کی۔