بی جے پی سے قربت کی وجہ سربراہ ٹی آر ایس سے دیگر علاقائی جماعتیں بھی چوکنا
حیدرآباد ۔ 10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بی جے پی سے بڑھتی قربت کے نتیجہ میں کارگزار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مخالف بی جے پی علاقائی جماعتیں دوری اختیار کر رہی ہیں۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے 19 جنوری کو مخالف بی جے پی ریالی میں شرکت کیلئے مختلف اپوزیشن قائدین کو مدعو کیا جن میں چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو شامل ہیں جبکہ چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ کو مدعو نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر بی جے پی سے قربت کے نتیجہ میں ممتا بنرجی نے یہ فیصلہ کیا ۔ حالانکہ کے سی آر نے چند ماہ قبل ملک میں فیڈرل فرنٹ کے قیام کے سلسلہ میں کئی اپوزیشن قائدین سے ملاقات کی تھی۔ کے سی آر نے کولکتہ پہنچ کر ممتا بنرجی سے ملاقات کی اور مخالف کانگریس و بی جے پی محاذ کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی ۔ ممتا بنرجی سے ملاقات کے وقت تک حالات ٹھیک تھے لیکن جیسے ہی کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے قربت اختیار کرلی۔ ممتا بنرجی ان سے دوری اختیار کرلی۔ اطلاعات کے مطابق ممتا بنرجی نے ایسے اپوزیشن قائدین کو مخالف بی جے پی ریالی میں مدعو کیا ہے جو 2019 ء میں بی جے پی سے کوئی اتحاد نہیں کریں گے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے حال ہی میں این ڈی اے حکومت سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ممتا بنرجی نے کے سی آر پر چندرا بابو نائیڈو کو ترجیح دی ہے۔ مخالف بی جے پی ریالی 19 جنوری کو کولکتہ میں منعقد ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتا بنرجی نے چندرا بابو نائیڈو کو ریالی میں مدعو کرتے ہوئے مکتوب روانہ کیا اور چندرا بابو نائیڈو نے شرکت سے اتفاق کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کے سی آر کو ابھی تک اس طرح کا کوئی دعوت نامہ وصول نہیں ہوا ہے۔ اگر کے سی آر مخالف بی جے پی محاذ کی تشکیل کے فیصلہ پر قائم رہتے تو ممتا بنرجی سے ان کے روابط برقرار رہتے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتا بنرجی نے کانگریس کی مخالفت کرنے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس واحد قومی جماعت ہے جس کی قیادت میں مخالف بی جے پی محاذ قومی سطح پر تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے یہاں تک کہا کہ وزیراعظم کے عہدہ کے امیدوار کا فیصلہ انتخابی نتائج کے بعد ہوگا۔ ٹی آر ایس نے ایک سے زائد مرتبہ بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کی تردید کی لیکن علاقائی جماعتوںکو کے سی آر پر بھروسہ نہیں ہے۔ کے سی آر نے کہا تھا کہ وہ تلنگانہ کے مفادات کے لئے وزیراعظم کی حیثیت سے مودی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مودی سے ملاقات کو سیاسی دوستی کے طور پر نہ دیکھا جائے ۔ ممتا بنرجی آئندہ عام انتخابات سے قبل مخالف بی جے پی طاقتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے قائدین نے امید ظاہر کی کہ ممتا بنرجی کا مکتوب کے سی آر کو بھی وصول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریالی کیلئے ابھی کافی وقت ہے، لہذا ممتا بنرجی کے دعوت نامہ کی امید برقرار ہے۔