اندرا وجئے رتھم کا آغاز ، صدر تلنگانہ پی سی سی اتم کمار ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔11 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اتم کمار ریڈی نے کے سی آر کو تلنگانہ کا نمبرون ویلن اور دھوکہ باز قرار دیا ۔ 9 ماہ قبل اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے اپنی سیاسی قبر خود کھود لینے کا کارگذار چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد 11 دسمبر کو عظیم اتحاد کی جانب سے تدفین انجام دینے کا اعلان کیا ۔ آج گن پارک پر شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ کانگریس کے سینئیر قائد وی ہنمنت راؤ کی اندرا وجئے رتھم کو جھنڈی دکھانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر تلنگانہ اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو ، سرینواس ، حیدرآباد سٹی کانگریس کے صدر ایم انجن کمار یادو رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم کی جانب سے سیاسی اتحاد کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد کے سی آر کی راتوں کی نیند اڑ گئی ۔ کے سی آر کو اندازہ ہوگیا کہ ٹی آر ایس کو شرمناک شکست ہونے والی ہے ۔ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر کے سی آر اور ٹی آر ایس کے قائدین عظیم اتحاد میں شامل جماعتوں پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کررہے ہیں ۔ تلگو دیشم کو آندھرائی پارٹی قرار دیا جارہا ہے ۔ اگر ان کا الزام صحیح ہے تو پھر کے سی آر نے اپنی کابینہ میں ٹی سرینواس یادو ، ٹی ناگیشور راؤ اور پی مہیندر ریڈی کو کیوں شامل کیا ۔ کیا ان تینوں وزراء نے کبھی تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لیا تھا ؟ تمام مخالفین تلنگانہ کا ٹی آر ایس پارٹی میں سرخ قالین پر استقبال کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس اور مجلس کی دوستی پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ مجلس نے کھل کر تلنگانہ ریاست کی مخالفت کی تھی ۔ تعجب ہے پھر بھی کے سی آر اور اسد الدین اویسی اچھے دوست ہیں اور دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کو فرینڈلی جماعت قرار دے رہے ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے مجلس کی جانب سے تلنگانہ کی مخالفت کی تھی یا نہیں اس کی وضاحت کرنے کا کے سی آر سے مطالبہ کیا ۔ اگر تلنگانہ کی مخالفت کی ہے تو مجلس آج ٹی آر ایس کی دوست جماعت کیسے بن گئی ۔ سی پی ایم نے تلنگانہ کی مخالفت کی مگر ٹی آر ایس نے کئی موقعوں پر برابر کی دوستی نبھائی ۔ اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس پر بی جے پی سے خفیہ اتحاد کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کے سی آر نے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری ، بیارم میں اسٹیل پلانٹ ، ہائی کورٹ کی تقسیم کے علاوہ تقسیم آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے لیے کبھی مرکز پر کوئی دباؤ نہیں بنایا ۔ یو پی اے کے دور حکومت میں ضلع رنگاریڈی کے لیے منظورہ آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کے قیام کے لیے مودی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا اگر پراجکٹ قائم ہوجاتا تو 52 لاکھ ملازمتوں کے دروازے کھل جاتے ۔ کے سی آر نے مودی سے اپنے ذاتی مفادات کے لیے تلنگانہ کے مفادات کو نظر انداز کردیا ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی پراجکٹس اور فنڈز کے لیے کبھی مرکز کے خلاف آواز اٹھایا ۔ بی جے پی اور مودی سے دوستی برقرار رکھتے ہوئے تلنگانہ کی تحریک میں اہم رول ادا کرنے والوں کو کچل دیا ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور کے سی آر نے سماج کے تمام طبقات کو دھوکہ دیا ہے ۔ ان سے کئے گئے ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا ۔ اتم کمار ریڈی نے کے سی آر کو تلنگانہ کا نمبر ون ویلن اور دھوکہ باز قرار دیا ۔۔