کیا سوچتے ہیں عمران خان ہندوستان کے بارے میں ؟

نئی دہلی / کراچی ۔26 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) عمران خان جو پاکستان کے آئندہ وزیراعظم ہوسکتے ہیں ‘ نے ایک بیان دیتے ہوئیہ کہا کہ ابتداء میں مجھے نواز شریف کو ایک پیغآم دینا تھا لیکن اب میں وزیراعظم ہند نریندر مودی کو بھی پیغآم دوں گا ۔ میں نوام شریف کو بتاؤں گا کہ مودی کی باتوں کا جواب کسطرح دیا جاتاہے ۔ یہ باتیں عمران خان نے اس وقت کہی تھیں جب ستمبر 2016ء میں ہندوستان کے پاکستان پر سرجیکل حملے کئے تھے ۔ کرکٹر سے سیاستداں بننے والے عمران خان نے 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے امکانی وزیراعظم ہونے کا اشارہ دے دیا ہے ۔ ہندوستان کے بارے میں انہوں نے اپنے خیالات کا وقتاً فوقتاً اظہار کیا ہے ۔ سی این این کو 2011ء میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان سے نفرت کے جذبے کو لیکر چھوٹے سے بڑے ہوئے ۔ میری پرورش لاہور میں ہوئی اور وہاں میں نے 1947ء کے قتل عام کے قصے سنے ہیں کہ کس طرح وہاں خونریزی ہوئی لیکن جیسے جیسے انہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا ‘ نفرت کا وہ جذبہ آہستہ آہستہ سرد پڑگیا ۔ میں نے دیکھا کہ ہند و پاک کی ثقافت ‘ تہذیب ‘ زبان ‘ لباس اور پکوان سب کچھ یکساں ہے لہذا میں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگیا کہ دونوں ممالک اگر ایک دوسرے کے دوست بن کر رہیں تو یہی دونوں ممالک کے سیاستدانوں اور عوام کیلئے فائدہ ہوگا ۔ گجرات میں 2001ء کے مسلم کش فسادات پر بھی عمران خان نے نریندر مودی پر مسلم نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا اور جموں و کشمیر کے موضوع پر بھی لب کشائی کرچکے ہیں ۔ البتہ عمران خان جیل کی سزا کاٹ رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کے سب سے بڑے ناقد رہے ۔