خاطیوں کو پھانسی دینے اور متاثرہ لڑکی سے انصاف کا مطالبہ
حیدرآباد 17 اپریل (سیاست نیوز) کشمیری لڑکی آصفہ کی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف ہندوستانی سماج میں غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو‘ کے نعرے سے خواتین کا اعتماد حاصل کرنے والوں کو اب تعلیم یافتہ بیٹیوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آصفہ کو انصاف کے نعرے پر شہر میں ہر دن کئی مقامات پر احتجاج، پرامن کینڈل مارچ جاری ہے۔ آج مانصاحب ٹینک پر اس وقت سنسنی پھیل گئی جب جے این ٹی یو کی طالبات احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر آگئیں اور ساتھی طالب علموں نے بھی ان کا تعاون کیا۔ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد کی نعرہ بازی سے علاقہ گونج اُٹھا۔ طلبہ جو آصفہ کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کررہے تھے، وہیں انھوں نے خاطیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا ۔ہاتھوں میں بیانرس و پلے کارڈس تھامے ہوئے طلبہ کی کثیر تعداد سڑک پر آگئی۔ جے این ٹی یو طلبہ نے خواتین پر جاری مظالم کو افسوسناک قرار دیا اور خاطیوں کی حمایت کو بدبختانہ عمل قرار دیا اور کہاکہ ملک میں خواتین اور لڑکیوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے اور لڑکیوں، خواتین کے علاوہ اب کمسن بیٹیاں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔ ملک میں بڑھتے عصمت ریزی کے واقعات کے بعد خواتین کی آزادی خطرے میں پڑگئی اور ہر گوشے سے خواتین کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔ ہر شہری آصفہ پر ڈھائے گئے ظلم و زیادتی اور قتل سے کافی غم و غصہ کا شکار ہے۔