کرناٹک میں بی جے پی اور جنتا دل سیکولر میں خفیہ معاہدہ؟

مسلم رائے دہندے چوکس، ٹی آر ایس اور مجلس سے ناراض

حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک میں کانگریس پارٹی نے بی جے پی اور جنتا دل سیکولر سے مقابلہ کیلئے انتخابی حکمت عملی کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے ۔ ریاست میں اگرچہ مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے لیکن جنتادل سیکولر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی دو جماعتوں کی تائید حاصل کرتے ہوئے تمام 225 نشستوں پر مقابلہ کے حق میں ہیں۔ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف حیدرآباد کی مسلم جماعت کی جانب سے اچانک جنتادل سیکولر کی تائید نے کرناٹک میں انتخابی منظر کو تبدیل کردیا ہے ۔ سیکولر رائے دہندے اور خاص طور پر اقلیتی طبقہ میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کے بڑھتے قدم روکنے کیلئے سدا رامیا کی زیر قیادت کانگریس حکومت کی دوبارہ تشکیل ضروری ہے۔ سیاسی مبصرین اور عوام کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ جنتا دل سیکولر قیادت سے اپنے قدیم روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یدی یورپا نے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے ایچ ڈی کمار سوامی سے خفیہ معاہدہ کیا ہے ۔ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے نتیجہ میں اگر ریاست میں بی جے پی کو اقتدار حاصل نہ ہوں تو ایسی صورت میں بی جے پی اور جنتا دل سیکولر 2007 کی طرح پھر ایک مرتبہ مخلوط حکومت کے تجربہ کو دہرائیں گے۔ ایسی صورت میں ایچ ڈی کمار سوامی کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کا موقع مل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنتا دل سیکولر نے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اس کی حلیف حیدرآباد کی مسلم جماعت کی تائید حاصل کرلی۔ چندر شیکھر راؤ و اسد الدین اویسی کو ایسے علاقوں میں انتخابی مہم میں شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے کہ جہاں اقلیتوں کی آبادی قابل لحاظ ہو۔ بی جے پی نے ہندوؤں کے ووٹ متحد کرنے جنتا دل سیکولر کو یہ کہتے ہوئے نشانہ بنایا کہ جنتا دل سیکولر کو ووٹ دینا کانگریس کو ووٹ دینے کے مترادف ہے لیکن چیف منسٹر سدا رامیا انتخابی مہم کے دوران عوام پر واضح کر رہے ہیںکہ جنتا دل سیکولر کو ووٹ دینے سے فرقہ پرست بی جے پی کا فائدہ ہوگا ۔ کانگریس تنہا مقابلہ کر رہی ہے اور اگر جنتا دل سیکولر حقیقی معنوں میں بی جے پی کی مخالف ہوتی تو وہ انتخابی مفاہمت کیلئے پیشکش کرسکتی تھی ۔ بی جے پی کو اقتدار سے روکنے جنتا دل سیکولر کی پیشکش پر کانگریس مثبت ردعمل ظاہر کرسکتی تھی لیکن ایچ ڈی کمار سوامی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کرچکے ہیں ۔ اقتدار سے طویل عرصہ تک دوری نے جنتا دل سیکولر قیادت کو بی جے پی سے مفاہمت پر مجبور کردیا ۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کا پارٹی پر اثر ختم ہوچکا ہے اور ان کے فرزند کمار سوامی یکطرفہ طور پر سیاسی فیصلے کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم آبادی والے حلقوں میں کانگریس کے مسلم امیدواروں کے خلاف جنتادل سیکولر مسلم امیدوار میدان میں اتاریگی، جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ یو پی ، بہار ، گجرات اور مہاراشٹرا میں اسی طرح کے منصوبے پر عمل کرکے بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنتا دل سیکولر کے علاوہ بعض مقامی سیاسی جماعتوں کو بی جے پی نے اعتماد میں لیا ہے تاکہ نتائج کے بعد نشستوں کی کمی پر ان کی تائید حاصل کی جاسکے۔ بی جے پی کرناٹک کے بارے میں زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتی لہذا وہ جنتا دل سیکولر پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر سدا رامیا پارٹی کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ جنتا دل سیکولر کو ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید کے باوجود رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ دونوں پارٹیاں کرناٹک سے تعلق نہیں رکھتیں اور رائے دہندوں کو مقامی صورتحال کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جنتا دل سیکولر اپنے منصوبہ میں کامیابی کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کریگی جس سے بی جے پی کو اقتدار حاصل ہو۔