ڈوکلام تنازعہ کے بعد ووہان ملاقات ہند ۔چین کے مستحکم تعلقات کی دلیل

پڑوسی ممالک کے درمیان اختلافات اور تنازعات ایک
فطری بات، تاہم ان سے بخوبی نمٹنا اصل صلاحیت
سابق معتمد خارجہ ایس جے شنکر کا خطاب

سنگاپور ۔ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے سابق معتمدخارجہ ایس جے شنکر نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ چین اور ہندوستان اب اپنے مستقبل کے لئے سب سے زیادہ فکرمند ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ دونوں ممالک کے درمیان اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی متضاد بات ہوتی ہے تو وہ اس صورتحال سے نمٹنے کی بھی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ اپنے آپ میں کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ ہم نے دیکھا ہیکہ بڑے بڑے ممالک چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ہندوستان اور چین کے درمیان ڈوکلام تنازعہ بھی کم و بیش دو ماہ تک جاری رہا تھا اور اس کے بعد سب نے دیکھا کہ وزیراعظم ہند نریندر مودی کا چین میں کتنا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا نے بھی اب اپنی کشیدگیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور دونوں قائدین کے درمیان ہوئی ملاقات کو حوصلہ افزاء قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ شمالی کوریا کے کم جونگ ان اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ تمام ایسی سیاسی تبدیلیاں ہیں جو یقینا خوش آئند ہیں۔ ووہان میں جس وقت نریندر مودی پہنچے تھے اس وقت دنیا کے دو طاقتور ممالک کے سربراہان کی ملاقات نے سب کی توجہ اپنی جانب کرلی تھی کیونکہ ایشیاء اب ایک طاقتور خطہ کے طور پر ابھرا ہے جس سے یوروپ کو بھی سبق لینے کی ضرورت ہے۔ ایس جے شنکر امریکہ اور چین میں ہندوستان کے سفیر کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایک تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز (ISAS) کی جانب سے منظم کردہ ایک لیکچر کے دوران اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان اور چین کے تعلقات پر ہمیشہ عالمی سطح پر نظر رکھی جاتی ہے۔ یہ دو ایسے ممالک ہیں جہاں کی آبادی فی ملک ایک بلین سے بھی زیادہ ہے اور اب انہیں دنیا کی مستحکم ترین معیشت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔