مبلغ اسلام نے ملک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ، ملائیشیائی نائب وزیراعظم کا بیان
نئی دہلی۔ 31 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی بینکوں کی ہزاروں ، لاکھوں کروڑ روپئے کا دھوکہ دے کر فرار ہونے والوں کو تو حکومت واپس لانے سے قاصر ہے لیکن مودی حکومت کو مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک کو واپس لانے کی فکر کھائے جارہی ہے۔ ڈاکٹر نائک کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ملائیشیا میں مقیم ہیں اور ہندوستانی حکومت، ملائیشیائی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈاکٹر نائک کو ہندوستان کے حوالے کردے۔ ہندوستانی حکام نے نہ صرف ڈاکٹر نائک کے خلاف کوالالمپور کی ایک عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے بلکہ شواہد بھی پیش کئے ہیں۔ توقع ہے کہ عدالت بہت جلد اس درخواست کی سماعت کرے گی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں قانون انسداد دہشت گردی کے تحت ذاکر نائک کے خلاف چارج شیٹ پیش کی جس میں ان پر دو مذہبی گروپوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے اور نوجوانوں کو دہشت گرد سرگرمیاں انجام دینے کی جانب مائل کرنے اور ترغیب دینے کے الزامات عائد کئے گئے۔ واضح رہے کہ نومبر 2017ء میں ملائیشیائی نائب وزیراعظم احمد زاہد حمیدی کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان باہمی قانونی اعانت معاہدہ کے تحت ملائیشیائی درخواست روانہ کرتا ہے تو ڈاکٹر ذاکر نائک کو ہندوستان کے حوالے کیا جائے گا۔ اس وقت ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رمیش کمار نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ہندوستان کے ڈاکٹر ذاکر نائک کی حوالگی کیلئے بہت جلد ملائیشیا سے درخواست کرے گا اور اس ضمن میں داخلی قانونی کارروائی تکمیل کے قریب ہے،
لیکن سفارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر نائک کے منتقلی کا فیصلہ چند ہفتوں میں ہوجائے گا۔ ڈاکٹر نائک فی الوقت ملائیشیا میں ہیں اور این آئی اے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ان کے کردار کی تحقیقات کررہی ہے۔ بنگلہ دیش میں گرفتار ایک انتہا پسند نوجوان نے الزام عائد کیا تھا کہ ذاکر نائک کی تقاریر سے وہ دہشت گردی کی طرف مائل ہوا ہے جس کے بعد یکم جولائی 2016ء کو وہ ملک سے چلے گئے۔ قانون پاسپورٹ 1967ء کی بعض دفعات کے تحت حکومت ہند نے ڈاکٹر ذاکر نائک کا پاسپورٹ منسوخ کردیا لیکن یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ڈاکٹر نائک کو ملائیشیا میں مستقل سکونت کی اجازت دی گئی ہے۔ ملائیشیا کے نائب وزیراعظم نے ملک کی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ ڈاکٹر نائک کو گرفتار کرنے یا حراست میں نہیں لیا جائے گا کیونکہ انہوں نے ملک میں قیام کے دوران کوئی قانونی قاعدہ نہیں توڑا۔ قانون کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب نہیں کیا۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ہند، ڈاکٹر ذاکر نائک کو ہندوستان لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں کیونکہ اسے ہمیشہ ایسے معاملات میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔