چینی اشیاء پر 50 بلین ڈالرس کے ٹیکس کو ٹرمپ کی منظوری

امریکہ کو تجارتی شعبہ میں تر نوالہ نہ سمجھا جائے ، غیردرست اقدام :امریکی شعبہ صنعت کا ردعمل

واشنگٹن ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد شدہ اشیاء پر 50 بلین ڈالرس مالیت کے ٹیکس کا نفاذ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک رسمی اعلان امریکی تجارتی نمائندہ کی جانب سے بھی کیا جائے گا جبکہ وفاقی رجسٹر میں اس تعلق سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔ یہ توقع کی جارہی ہیکہ امریکہ کے اس اقدام کی چین کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد انہوںنے تقریباً دیڑھ گھنٹے تک وزیر کامرس و لبرراس، ٹریژری سکریٹری اسٹیون نوچن اور یو ایس تجارتی نمائندہ رابرٹ لائھیتزر سے ملاقات کی تھی جبکہ اس میٹنگ میں قومی سلامتی کونسل کے نمائندہ بھی موجود تھے۔ بعدازاں کانگریسی خاتون روزا ڈی لارو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں کا نفاذ امریکہ کے پاس موجود چند ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جو وہ چین کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اسے نہ صرف جوابدہ بنا سکتا ہے بلکہ تجارت کے شعبہ میں مزید توازن پیدا کرنے کیلئے حکومت چین کو مذاکرات کی میز پر بھی لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب زائد خسارہ برداشت نہیں کرسکتا جیسا کہ خود صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہر ملک تجارت کے شعبہ میں امریکہ کو تر نوالہ سمجھ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر تجارت کے شعبہ میں امریکہ کا موقف کمزور ہوجائے گا۔ اس لئے میں صدر پر زور دے رہی ہوں کہ وہ امریکی شہریوں کی ملازمتوں کے تعلق سے اپنی لڑائی جاری رکھیں جس کیلئے انہیں ایک منفرد حکمت عملی اپناتے ہوئے امریکی معیشت کو سب سے آگے رکھنا ہے۔ دریں اثناء امریکی شعبہ صنعت نے چینی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کو حکومت امریکہ کا غیردرست اقدام قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔