پیرس: جنگ عظیم اول کے خاتمہ کے سو سال پورے ہونے پر فرانس میں امن کا دن منایا جارہا ہے ۔جس میں دنیا بھر سے عالمی قیادت شریک ہوئی ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارہ کے مطابق ’’ ورلڈ وار I‘‘ کی جنگ بندی کی ۱۰۰؍ سالگرہ کے موقع پر فرانس میں سرکاری سطح پر جشن منایا جارہا ہے جس میں امریکہ ، جرمنی ، روس اور ترکی سمیت دنیابھر کی قیادت کو مدعو کیاگیاتھا ۔ فرانس میں ہر سال ۱۱؍ نومبر کو عام تعطیل دی جاتی ہے ۔
روسی صدر پوٹن ، جرمنی کی چانسلر اینجلامرکل ، کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ، ترک صدر طیب اردغان او راسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو تقریب میں شرکت کیلئے پیرس کے یادگاری مقام تک پیدل پہنچے جہاں فرانسیسی صدر نے ان مہمانو ں کا گرمجوشی سے استقبال کیا ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلے تو دورہ فرانس منسوخ کردئے تھے لیکن شدید تنقید کے بعد وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے او راپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ پیرس پہنچے ۔
فرانسیسی صدر نے خصوصی خطاب میں تمام مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سب کا جمع ہونا امن و یکجہتی او راتفاق کا مظہر ہے ۔دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے اور اسی ضرورت کو سمجھتے ہوئے سو سال قبل اسی دن جنگ عظیم کی جنگی بندی کا معاہدہ طے پایا تھا ۔ دوسری جانب برطانیہ میں جنگ عظیم کے خاتمہ کے ۱۰۰؍ ویں سالگرہ کے موقع پر شاہی محل میں ملکہ برطانیہ کی موجودگی اور شہزادہ چارلس کی سربراہی میں خصوصی تقریب رکھی گئی جس میں شرکاء نے دو منٹ کی خاموشی مناکر شہیدوں کو خرا ج تحسین پیش کی ۔ آسٹریلیا میں بھی جنگ بندی کے سو سال پورے ہونے پر جشن کا منایاگیا۔
واضح رہے کہ 1914سے 1918 تک جاری رہنے والی جنگ عظیم اول میں ۹۷؍ لاکھ سپاہی اور ایک کروڑ سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔ تاہم ۱۱؍ نومبر 1918 ء کو تاریخی امن معاہدہ پر فرانس او رجرمنی کے دستخط کے بعد یہ خونریزی جنگ ختم ہوئی تھی ۔