پولیس نے ملین مارچ کو ناکام بنادیا ‘ ہزاروں کارکن گرفتار

پروفیسر کودنڈا رام اور سی پی آئی لیڈر وینکٹ ریڈی بھی محروسین میں شامل ‘ کارکنوں کا احتجاج
حیدرآباد 10 مارچ ( آئی این این ) پولیس نے ملین مارچ کو ناکام بنادیا جس کا اعلان تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دوسری بائیں بازو کی جماعتوں نے اعلان کیا تھا ۔ یہ ملین مارچ ٹینک بنڈ پر ہونے والا تھا ۔ پولیس نے اس مارچ کو ناکام بناتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کارکنوں اور قائدین بشمول ٹی جے اے سی صدر نشین پروفیسر ایم کودانڈا رام اور سی پی آئی ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کو گرفتار کرلیا ۔ تلنگانہ جے اے سی ‘ سی پی آئی ‘ نیو ڈیموکریسی سی پی آئی ایم ایل نے آج دو پہر ایک بجے تا سہ پہر چار بجے ٹینک بنڈ پر اس ملین مارچ کا اعلان کیا تھا ۔ یہ ملین مارچ تلنگانہ تحریک کے حصے کے طور پر آج ہی کے دن 2011 میں منعقدہ ملین مارچ کی یاد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم پولیس نے آج کے ملین مارچ کی اجازت نہیں دی تھی ۔ ٹینک بنڈ پر آج دن بھر گاڑیوں کی آمد و رفت بند کردی تھی اور شہر میں مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے تلاشی مہم بھی منعقد کی تاکہ ٹی جے اے سی کارکنوں کو ٹینک بنڈ پہونچنے سے روکا جائے ۔ ٹی جے اے سی صدر نشین کودنڈا رام کی قیامگاہ کے باہر بھاری تعداد میں پولیس کو متعین کردیا گیا تھا اور جیسے ہی وہ سہ پہر تین بجے اپنے گھر سے باہر آئے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ۔ کودنڈا رام کی گرفتاری کے خلاف سینکڑوں ٹی جے اے سی کارکنوں نے تارناکہ میں احتجاج منظم کیا ۔ اس دوران سی پی آئی لیڈر وینکٹ ریڈی اور ان کے ساتھیوں کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ مخدوم بھون سے ٹینک بنڈ کی سمت روانہ ہونا چاہتے تھے ۔ انہیں بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا ۔ قبل ازیں اپنی قیامگاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کودنڈا رام نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اس ملین مارچ کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔