پناہ گزینوں کو ملک سے واپس کرنے، ہندوستان کی بنگلہ دیش سے بات چیت

تمام غیر قانونی ایمگرینٹس کی نشاندہی اور بائیومیٹرک نمونے حاصل کرنے ریاستوں کو ہدایت، راجیہ سبھا میں راجناتھ سنگھ کا بیان
نئی دہلی۔25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ غیر قانونی طو رپر ہندوستان میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے بنگلہ دیش سے بات چیت کی جارہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے نائب کرن رجیجو نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم 52 بنگلہ دیشیوں کو 30 جولائی کو آسام سے م لک بدر کردیا جائے گا۔ راج ناتھ سنگھ نے ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ ’’اس مسئلہ پر بنگلہ دیش کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وزارت امور خارجہ اگر ضروری ہو تو بنگلہ دیش اور مائنمار دونوں ہی ملکوں کی حکومتوں سے بات چیت کرے گی تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جاسکے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مرکز نے ریاستوں کو ایک مشاورتی نوٹ روانہ کرتے ہوئے ایسے غیر قانونی مہاجرین کی نشاندہی کرنے ان کے بائیومیٹرک شناختی نمونے جمع کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا ہے کہ ان کے ایسے دستاویز دستیاب نہ ہوسکیں جن کی بناء پر مستقبل میں سند کے لیے ادعا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ریاستوں سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہماس کو وزارت خارجہ سے رجوع کردیں گے۔‘‘ مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلہ پر ہندوستان پہلے ہی بنگلہ دیش اور مائنمار سے رجوع ہوچکا ہے۔ ایک ضمنی سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’حکومت ہند ان بنگلہ دیشی (مائنمار) پر ان افراد کو واپس لینے کے لیے دبائو ڈال رہی ہے۔ یہ عمل تبادلہ خیال کے مطابق ہوگا کیوں کہ ہم ایک خودمختار ملک ہیں اور ہمیں یہاں کوئی تیقن نہیں دے سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بیرونی شہریوں کے قانون کے تحت مرکز کو ہندوستان میں غیر قانونی طو رپر مقیم کسی بھی بیرونی شخص کا پتہ چلانے، اس کی شناخت کرنے اور ملک بدر کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ اجیجو نے ان روہنگیائوں کے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخلے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ وہ (پناہ گزین) مختلف ریاستوں میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سکیوریٹی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روہنگیائی پناہ گزین آندھراپردیش، دہلی، جئے پور جموں و کشمیر، تلنگانہ اور مغربی اترپردیش میں سکونت پذیر ہیں۔ غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشیوں کے اخراج کے بارے میں رجیجو نے کہا کہ ’’حکومت بنگلہ دیش کے 52 افراد کی شناخت اور انہیں بنگلہ دیشیوں کی حیثیت سے قبول کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ بشمول ایک اقلیتی فرد انہوں نے 52 افراد کو قبول کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جنہیں 30 جولائی کو 11 بجے دن آسام میں مانکاچر سے ملک بدر کردیا جائے گا۔ ’’ناپاک عزائم کے ساتھ بعض ہندوستانیوں کو بھی حراستی کیمپوں میں رکھنے سے متعلق ایک اور ضمنی سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی کی حراست کو کوئی مقصد یا محرکات کو مربوط منسلک نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ ٹریبیونل کی طرف سے بیرونی افراد قرار دیئے جانے والوں کو ہی حراستی کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت اپنے طور پر کسی کے بیرونی شہری ہونے کا اعلان نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی کو حراستی کیمپ میں رکھ سکتی ہے۔‘‘