نماز کی تکمیل تک کھانا ختم،کئی اہم قائدین کو تلخ تجربات،کچھ قائدین ناراضگی کے عالم میں دوپہر میں اجلاس سے واپس
حیدرآباد۔/28 اپریل، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس پلینری سیشن میں پارٹی کے مسلم قائدین اور مندوبین کو تلخ تجربہ ہوا اور بیشتر قائدین لنچ سے بھی محروم ہوگئے۔ پارٹی پلینری سیشن کے دوسرے دن کئی قائدین نے میڈیا کو اپنے تلخ تجربات سے واقف کرایا اور کہا کہ منتظمین نے نماز جمعہ کے اہتمام کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی اور یہ تاثر دیا گیا کہ پارٹی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا مکمل احترام کرتی ہے لیکن نماز ادا کرنے والوں کے کھانے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ بتایا جاتا ہے کہ نمازی تو کھانے سے محروم رہ گئے جبکہ بے نمازیوں نے لنچ کا لطف اٹھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیشن کے مقام اور ڈائیننگ ہال سے کافی فاصلہ پر نماز گاہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ 2 اور ڈھائی بجے کے درمیان نماز جمعہ ادا کی گئی۔ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین کو نماز گاہ کے انتظامات کی ذمہ داری تھی اور انہوں نے ایک دن قبل میڈیا میں کہا تھا کہ نماز کے بعد اسی مقام پر دسترخوان بچھایا جائیگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نماز کی تکمیل کے بعد جب مسلم مندوبین اور قائدین نے لنچ کا انتظار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ڈائیننگ ہال جانا ضروری ہے۔ نماز میں شامل وی وی آئی پی شخصیتیں ان کیلئے مختص کردہ علحدہ گوشہ میں چلے گئے جبکہ کئی چیرمینس اور دیگر قائدین کو مندوبین کے ڈائیننگ ہال جانا پڑا جو کافی فاصلہ پر تھا۔ تپتی ہوئی دھوپ کے باوجود جب یہ لوگ ڈائیننگ ہال پہنچے تو پتہ چلا کہ کھانا ختم ہوچکا ہے۔ بعض صدورنشین، بورڈز کے ارکان حتیٰ کہ حکومت کے نیوز چینل کے ذمہ دار کو بھی کھانا یا روٹی کے بجائے صرف چکن کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے کام چلانا پڑا۔ وہاں موجود ایک باورچی نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ایک ، ایک روٹی کا کسی طرح انتظام کیا۔ پلینری سیشن کیلئے آبادی سے کافی دوری پر مقام کا تعین کیا گیا جہاں قریب میں کوئی ہوٹل کی سہولت موجود نہیں جس کے باعث مندوبین اجلاس چھوڑ کر نہیں جاسکے۔ لنچ سے محرومی سے ناراض بعض قائدین دوپہر میں اجلاس سے واپس ہوگئے۔ جن قائدین کے ساتھ یہ تلخ تجربات گذرے ہیں انہوں نے ساتھیوں اور میڈیا کے نمائندوں سے اس کا ذکر کیا اور اس بات پر ناراضگی جتائی کہ اہم قائدین کو بھی مسلمانوں کے کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ پلینری میں مسلم ممالک کے این آر آئیز کو نظرانداز کردیا گیا۔ چیف منسٹر نے 18 ممالک سے این آر آئیز کی شرکت کا اعلان کیا اور ان کے نام پڑھ کر سنائے۔ بحرین، مسقط اور قطر سے بھی غیر مسلم این آرآئیز کو مدعو کیا گیا تھا ان تمام کو سرکاری مہمان کی حیثیت سے ٹھہرایا گیا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک کے کئی این آر آئیز جو ہمیشہ ٹی آر ایس حکومت کے ساتھ رہے ہیں انہیں دعوت بھی نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں خلیجی ممالک کے این آر ائیز کے ایک نمائندہ وفد نے چیف منسٹر اور ان کے فرزند کے ٹی آر سے ملاقات کا وقت مانگا لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا۔