ٹی آر ایس کے داخلی اختلافات میں شدت، کے سی آر کیلئے درد سر

انتخابی مہم کے آغاز میں تاخیر، ورنگل اور کھمم میں گروپ بندیوں کوختم کرنے کے ٹی آر کو ذمہ داری

حیدرآباد8 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس میں داخلی اختلافات پارٹی سربراہ چندر شیکھر رائو کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔ ورنگل، کھمم و دیگر اضلاع میں قائدین کے اختلافات میں شدت کے سبب کے سی آر کو ورنگل اور کھمم میں اپنے جلسوں کو نہ صرف ملتوی کرنا پڑا بلکہ انہوں نے انتخابی مہم کے شیڈول کو ابھی تک قطعیت نہیں دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل اور کھمم میں امیدواروں کے اعلان کے بعد کیڈر میں ناراضگی سے جلسوں کی ناکامی کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ لہٰذا کے سی آر نے تاریخ کے ا علان کے باوجود دونوں جلسوں کو لمحہ آخر میں ملتوی کردیا۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے مسئلہ پر قائدین میں زبردست رسہ کشی دیکھی جارہی ہے۔ کے سی آر نے 105 امیدواروں کی پہلی فہرست میں اگرچہ سابق ارکان اسمبلی کو زیادہ تر موقع دیا لیکن دیگر پارٹیوں سے شامل قائدین کو ٹکٹ دینے سے وہ قائدین ناراض ہیں جو 2001ء میں پارٹی کے قیام سے وابستہ ہیںجنہیں ٹکٹ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تلگودیشم و کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل قائدین میں بیشتر کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل اور کھمم میں نشستوں کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر سینئر قائدین بھی ناراض ہیں۔ دونوں اضلاع کے سابق وزراء اپنے حامیوں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے ہائی کمان پر دبائو بنارہے ہیں۔ ورنگل میں جب کبھی ٹی آر ایس کا جلسہ عام منعقد ہوا عوام نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔ 16 ڈسمبر 2010ء کو ورنگل میں منعقدہ جلسہ عام میں تقریباً 20 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔ اب جبکہ کے سی آر قائدین کے اختلافات کے درمیان ورنگل میں جلسہ عام کو خطاب کرنے والے تھے، لمحہ آخر میں اس لیے ملتوی کرنا پڑا کیوں کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ اگر جلسہ منعقد ہوتا ہے تو قائدین کے اختلافات برسر عام ہوجائیں گے۔ کے سی آر نے قائدین میں ٹکٹوں کے تقسیم کے مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ داری اپنے فرزند کے ٹی آر کو دی ہے اور مسئلہ کی یکسوئی کے بعد جلسہ منعقد کیا جائیگا۔ متحدہ ورنگل ضلع میں اسمبلی کی 11 نشستیں ہیں، چیف منسٹر نے ورنگل ایسٹ حلقہ کو چھوڑ کو دیگر حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا۔ اس حلقہ سے کونڈا سریکھا نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس مرتبہ ان کا نام فہرست میں شامل نہ ہونے سے کونڈا سریکھا اور ان کے شوہر کونڈا مرلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری حلقہ اسمبلی اسٹیشن گھن پور سے ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ اگر انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو وہ اپنی دختر کاویہ کو ٹکٹ دینے کی مانگ کررہے ہیں۔ پالا کرتی حلقہ میں بھی قائدین میں اختلافات دیکھے گئے۔ ای دیاکر رائو اس حلقہ کی نمائندگی کرتے تھے اور اس مرتبہ ٹی آر ایس کا کیڈر انہیں ٹکٹ کی مخالفت کررہا ہے۔ دیاکر رائو تلگودیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔ سابق اسپیکر مدھو سدن چاری، بھوپال پلی حلقے میں کیڈر کی مخالفت کا سامنا کررہے ہیں۔ جنگائوں اسمبلی حلقہ میں یادگیری ریڈی کو قائدین کی مخالفت کا سامنا ہے۔ امیدواروں کے اعلان کے ایک ماہ گزرنے کے باوجود ورنگل کے کئی امیدوار انتخابی مہم کا آغاز نہیں کرسکے۔ انہیں جگہ جگہ قائدین کی ناراضگی کا سامنا ہے۔ مختلف اضلاع میں ناراض سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کے سی آر امیدواروں کی تبدیلی پر غور کررہے ہیں۔ ناراض سرگرمیوں کے سبب باغی امیدواروں کی بڑی تعداد ٹی آر ایس کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ صورتحال سے پریشان کے سی آر ناراض سرگرمیوں سے نمٹنے حکمت عملی کی تیاری میں ہنگامی طورپر مصروف ہوچکے ہیں اور وہ روزانہ بااعتماد رفقا سے مشاورت اور اضلاع میں قائدین سے راست ربط قائم کرکے متحدہ طور پر کام کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے بعض ناراض قائدین کو تیقن دیا کہ امیدواروں کے نام یا پھر ان کے حلقے تبدیل کیا جائیں گے۔