واشنگٹن ،19اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے کس طرح آزاد کرایا جائے اس سلسلہ میں جاپان کے وزیر اعظم شنز و آبے کے ساتھ صدر ٹرمپ کی بات چیت جاری ہے ۔صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے پیونگ یونگ زائد دباؤ ڈالا جائے۔ فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے طے کردہ بات چیت کے مراحل ’فائدہ مند‘ثابت نہ ہوئے تو وہ بات چیت کا خاتمہ کردیں گے۔ یہاں صدر ٹرمپ اور جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ شمالی کوریا پر نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کو قائم رکھا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا کہ کم جونگ ان سے ملاقات کامیاب ثابت ہو گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ باعزت طریقے سے اجلاس برخاست کردیں گے۔ انھوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا میں قید تین امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے ۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ شمالی کوریا پر اس وقت تک زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم جاری رہے گی جب تک وہ نیوکلیئر تخفیف نہیں کرتا۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ شمالی کوریا کے لیے ایک روشن راستہ موجود ہے جب یہ نیوکلیئر تخفیف حاصل کرتا ہے جو ناقابل واپسی اور مکمل اور تصدیق شدہ ہو۔ ان کے لیے اور دنیا کیلئے خوشی کا دن ہو گا۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کے ڈائرکٹر مائیک پومپیو کے خفیہ دورہ پر شمالی کوریا جانے اور وہاں کم جونگ ان سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مائیک پومپیو نے کم جونگ ان سے اچھے تعلقات استوار کر لیے تھے اور یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔خیال رہے کہ چہارشنبہ کو امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ سی آئی اے کے ڈائرکٹر مائیک پومپیو ایک خفیہ دورے پر شمالی کوریا گئے تھے جہاں انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔حکام نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کی تفصیلات طے کرنا تھا۔اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی ہے ۔یہ غیرمتوقع اور خفیہ ملاقات امریکہ کا شمالی کوریا کے ساتھ 2000 کے بعد سے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ ہے ۔ٹرمپ نے فلوریڈا میں کہا ہے کہ انتہائی اعلیٰ سطح پر ہماری براہ راست بات چیت ہوئی ہے ۔ بی بی سی کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورئہ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے ۔جاریہ ماہ کے شروع میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔