ٹرمپ سے ’علحدہ ‘ ملاقات کرنے شاہ محمود قریشی کا ادعا

ٹرمپ نے استقبالیہ کے دوران وزیر خارجہ پاکستان سے صرف مصافحہ کیا تھا ‘ وائیٹ ہاوز کی وضاحت

واشنگٹن ۔ 27 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک میں منعقدہ ایک ظہرانے کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مصافحہ کیا تھا ۔ وائیٹ ہاؤس نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی ہیکہ شاہ محمود قریشی کا ادعا ہیکہ انہوں نے ٹرمپ سے باقاعدہ طور پر ایک رسمی ملاقات کی تھی ۔ ان دونوں نے پاک ۔ امریکہ دو رخی تعلقات پر بات چیت بھی کی ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یہ واقعہ رونما ہوا جس کے بعد قریشی نے پاکستانی میڈیا کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کی ٹرمپ سے ملاقات باقاعدہ رسمی طور پر ہوئی ۔ یہاں قریشی کے دعوے کے مطابق دونوں قائدین نے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ۔میں کوئی بھیڑ میں موجود ٹرمپ کا مداح نہیں ہوں جن سے ہاتھ ملاکر ٹرمپ کو یہ بھی یاد نہ رہے کہ انہوں نے بھیڑ میں کس کس سے ہاتھ ملایا ۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک استقبالیہ کے دوران انہوں نے ٹرمپ سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات سے متعلق مختصر تبادلہ خیال بھی کیا ۔ انہوں نے ٹرمپ سے اس بات کی خواہش بھی کی کہ پاک۔ امریکہ تعلقات کو ایک بار پر اسی عروج پر پہنچنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ماضی میں ہوچکا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ متعدد پاکستانی میڈیا جیسے ڈان اور پاکستان ٹریبون نے پاکستان ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ ۔ قریشی کی رسمی ملاقات کو نمایاں خبروں میں شامل کیا تھا جبکہ وائیٹ ہاؤس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین کے درمیان صرف مصافحہ ہوا تھا جبکہ اس وقت دیگر عالمی قائدین بھی موجود تھے ۔نیویارک کے بھی باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ ۔ قریشی ملاقات کی کبھی بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ یہ ایک رسمی ملاقات تھی ۔ ٹرمپ جس طرح دیگر عالمی قائدین سے مصافحہ کیا بالکل اسی طرح شاہ محمود قریشی سے بھی کیا جبکہ ٹرمپ کے ساتھ موجود رپورٹرس کی فوج نے بھی حالانکہ ٹرمپ کی دیگر عالمی قائدین سے مصافحہ کا تذکرہ کیا ہے لیکن انہوں نے ٹرمپ ۔ قریشی ملاقات کا ذکر تک نہیں کیا ۔ اگرچہ فرض بھی کیا جائے کہ ٹرمپ نے شاہ محمود قریشی سے علحدہ ملاقات کی ہے تو اس کی تصاویر کہاں ہیں ؟ ۔آج کا عصری دور سوشل میڈیا سے رقم ہے ۔ چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا واقعہ فوری طور پر وائرل ہوجاتا ہے تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر یعنی دو ممالک کے اہم قائدین کی ملاقات کی کوئی تصویر یا ویڈیو پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا تو درکنار‘سوشل میڈیا پر بھی نہیں دیکھا گیا ۔