وزیراعظم مودی نے خواتین کی ناراضگی مول لی

شادی شدہ خاتون 500 گرام اور غیرشادی شدہ خاتون کو 250 گرام سونا رکھنے کا لزوم
حیدرآباد۔ یکم ڈسمبر (سیاست نیوز) سونے پر تحدیدات عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خواتین کی برہمی اور ناراضگی دونوں مول لی ہے۔ خواتین نے کہا کہ مودی نے بیوی کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی ان کی بیٹیاں ہیں، اسی لئے وہ خواتین کے جذبات سے ناواقف ہیں۔ کسی بھی صورت میں خواتین اپنے پاس موجود سونے کا حساب بتانے اور قوانین کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انصاف کیلئے عدلیہ سے رجوع ہونے کا بھی اعلان کیا ہے۔ نوٹ بندی کے 23 ویں دن بعد بھی عوام سنبھل نہیں پائے تھے کہ مرکزی حکومت نے سونے سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کردیا جس کے بعد خواتین اتنی برہم ہے کہ وہ اس مسئلہ پر حکومت سے بغاوت کرنے کیلئے بھی آمادہ ہورہے ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی رپورٹس میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ہندوستان کے ہندو گھرانے میں روپیہ کو ’’لکشمی‘‘ اور سونے اور دیگر جواہرات کو مذہبی و سماجی اعتبار سے ’’نیک شگون‘‘ تصور کرتے ہوئے گھروں اور بینکوں کے لاکرس میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ رقم اور سونا گھروں سے باہر آجاتا ہے تو ہندوستان کی معاشی حالت بڑی حد تک سدھر جائے گی۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے کالا دھن کا بہانہ کرتے ہوئے پہلے 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں پر امتناع عائد کردیا۔ غریب و متوسط طبقہ کے عوام ابھی اس الجھن سے باہر ہی نہیں نکل پائے تھے کہ ٹھیک 23 دن بعد سونے سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کردیا۔ ایک شادی شدہ خاتون کو 500 گرام اور غیرشادی شدہ لڑکیوں کو 250 گرام اور مردوں کو 100 گرام سونا رکھنے کا لزوم عائد کرتے ہوئے اتنی مقدار میں سونا رکھنے والوں سے کوئی ٹیکس وصول نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے زیادہ سونا رکھنے والوں کو ٹیکس کے دائرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ٹیکس بل پیش کردیا جس کے ساتھ ہی خواتین میں بڑے پیمانے پر برہمی دیکھی جارہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سارے ملک میں پریشانیوں کے باوجود یہ سوچ کر صبر کا مظاہرہ کررہے تھے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا فیصلہ ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا، تاہم ہر تدبیر اُلٹی نظر آرہی ہے بلکہ خواتین کی ناراضگی و برہمی نظر آرہی ہے۔ یکم ڈسمبر کو حصول تنخواہ کیلئے عوام بینکس اور اے ٹی ایمس کے چکر کاٹ کاٹ کر خالی ہاتھ مایوسی کے عالم میں گھر لوٹے تھے کہ انہیں سونے کی تحدیدات کا علم ہوا تو وہ اور بھی ناراض و برہم ہوگئے۔ واضح رہے کہ اسلام میں مردوں کیلئے سونا پہننا حرام ہے جیسے ہی سونے پر تحدیدات کی اطلاع عام ہوئی تو خواتین اپنے گھروں سے باہر نکل کر میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم مودی کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ منی کنڈہ میں ایک خاتون لتا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی شادی رچاکر بھی اپنی شریک حیات کی ذمہ داری قبول نہیں کرپائے اور نہ ہی انہیں کوئی بیٹیاں ہیں، اسی لئے بیوی بیٹیوں کی ذمہ داریوں سے وہ غافل ہیں اور من مانی فیصلے کرتے ہوئے عوام بالخصوص خواتین کی ذاتی زندگیوں میں بے جا مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ورثہ میں سونا ملا ہے جس کا حساب کتاب نہیں ہے۔ اب اس پر تحدیدات عائد کرنا خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ زیادہ تر جنوبی ہند میں خواتین اثاثہ جات