کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے جوابدہی کو فروغ دینے کا کام کیا ہے، اچھے طریقے حکومت کو اپنانے کی ضرورت: رامناتھ کوئند
نئی دہلی۔10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمہوریہ رامناتھ کوئند نے آج سرکاری آڈیٹر سی اے جی پر زور دیا کہ نتیجہ خیز آڈیٹنگ کی طرف پیشرفت کریں اور حکومتی پروگراموں کو بہتر بنانے کے لیے آگہی اور پیش بینی مہیا کریں۔ یہاں 29 ویں اکائونٹنٹس جنرل کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کوئند نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی ایسے ادارے کے طور پر ستائش بھی کی جو جوابدہی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ یقینی ہوجائے کہ درست چیزیں درست انداز میں اور کمترین لاگت پر انجام دی جائیں۔ انہوں نے اکائونٹنٹس جنرل کو بتایا کہ وہ اپنی اقتصادی، تعمیر اور پرفارمنس والے آڈٹس کے ذریعہ آپریشنس کے بارے میں قیمتی رائے فراہم کرتے آئے ہیں اور بہتری کے لیے سفارشات بھی دیئے۔ اب وقت ہے کہ یہ ادارہ آگہی اور پیش بینی کے تعلق سے بھی سوچے۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ آڈٹ بجائے خود کوئی اختتامی کام نہیں بلکہ حکومتوں کے کام کو بہتر بنانے کا وسیلہ ہے، کوئند نے کہا کہ اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ نتیجہ پیداوار کے مقابل پروگرام کی قدر کا زیادہ بامعنی اقدام ہو۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ آپ لوگ مباحث کرسکتے ہو کہ کس طرح آپ ایک تنظیم کے طور پر پروگراموں کے اثر کا جائزہ لینے کے لیے نتیجہ کی شناخت کریں گے، اسے سمجھیں گے اور اس کا اندازہ لگائیں گے۔ آپ کو ہوسکتا ہے حکمت عملی کو اس انداز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے کہ اس سے نتائج کی پیمائش ہوسکے۔ کوئند نے حکومتی محکمہ کو نامیاتی شئے بتاتے ہوئے کہا کہ سرویس کے معاملہ میں کوئی بھی ناکامی یا خامی سسٹم میں مخدوش پن کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر کی حفاظت کرنے والوں کی حیثیت سے برائے مہربانی خود سے پوچھیں کہ آیا سسٹم میں مخدوش مقامات اور کمزوریوں کے بارے میں نشاندہی سے مدد ملے گی؟ اچھے سسٹم، خراب آدمیوں اور عورتوں کو بے داخل کردیتے ہیں۔ یہی مرحلہ ہے جہاں آپ اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ حکومت کے لیے یہ دیکھنے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے کہ غلطیاں کہاں ہورہی ہیں اور کیوں، نیز سی اے جی کو عاملہ کے فائدے کے لیے دیگر جگہوں پر بھی ان اچھے طریقوں کا تبادلہ کرنا چاہئے جن کے ذریعہ اسے کامیابی حاصل ہوئی۔
خسارے کی تین کمپنیاں بند ہوں گی:حکومت
نئی دہلی،10اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام)حکومت نے خسارے میں چلنے والے تین سرکاری کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔جن میں نیشنل جوٹ مینوفیکچرس کارپوریشن لیمیٹیڈ (این جے ایم سی)،اس کی اکائی برڈس جوٹ اینڈ ایکسپورٹس لمیٹڈ (بی جے ای ایل)اور یتل اور گیس کے شعبہ کی کمپنی بائیکو لاؤری لمیٹڈ شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ اور کابینہ کے اقتصادی امور کی کمیٹی کی آج یہاں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ ان کمپنیوں کے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھا جائیگا۔
حکومت نے طویل عرصے سے خسارے میں چلنے والی بائیکو لاؤری کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس پر کایبنہ کے اقتصادی امور کی کمیٹی نے آج مہر لگا دی ہے ۔ساتھ ہی ملازمین کو رضاکارانہ ریٹائیرمینٹ کا متبادل دئے جانے کی بھی منظوری دی گئی۔