ناموحکومت میں تغذیہ کی کمی: سال2016میں 64بچوں کی ہر روز موت

مدھیہ پردیش:نامو اقتدار کے دوران بچوں کی شرح اموات میں بتدریج اضافہ ہی ہوا ہے‘ اؤٹ لک انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یومیہ 64بچے کم ازکم ہلاک ہورہے ہیں۔

سابق چیف منسٹر بابولا ل گور کی شدید تنقید کے بعد اس ضمن میں بی جے پی پر حقیقی اعداد وشمار جاری کرنے کے لئے مبینہ طور پرزوردیاجارہا ہے۔

اؤٹ لک انڈیا کی رپورٹ کے مطابق’’ محکمہ صحت نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ ہے کہ پچھلے سال 116بچے تغذایہ کی کمی کے سبب ہلاک ہوئے ہیں‘ مگر وزیر برائے ترقی خواتین اور اطفال( ارچنا چٹ نیز) کا دعویٰ ہے کہ تغذایہ کی کمی کے سبب سال2015اور 2016میں کوئی اموات نہیں ہوئے‘‘۔

ارچنا نے ہندوستان ٹائمز سے کہاکہ ’’ پچھلے چھ سالوں میں25,440بچوں کی موت خسرے اور دیگر امراض کی وجہہ سے ہوئی ہیں‘‘۔

مدھیہ پردیش میں نہ صرف بچوں کی شرح اموات کم ہے بلکہ یہاں دیہی علاقوں میں ہر 1,000افراد میں 8لوگوں کی موت ہر سال واقع ہوتی ہے۔