میں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ کرسٹن مائیکل

عدالت سے مائیکل کی درخواست میں کہاگیا کہ میڈیا کو ’ ای ڈی نے خفیہ طریقے سے ایک کاپی فراہم ‘ کی ہے۔

نئی دہلی۔ کرسٹن مائیکل ‘ مبینہ طور پر اگستا ویسٹ لینڈ وی وی ائی پی ہیلی کاپٹر اسکیم کے درمیانی شخص نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ سے کہاکہ اس نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے روبرو اس معاہدے کے متعلق کسی بھی شخص کا نام نہیں لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میںآیاتھا کہ ای ڈی جمعرات کے روز ایک ضمنی چارج شیٹ دائر کی ہے جس میں دفاعی اہلکاروں‘ بیوروکریٹس اور صحافیوں کے علاوہ ’’ اے پی‘‘ اور ’’ ایف اے ایم‘‘ ناموں کا شامل کیاہے جس کومعاہدے سے فائدہ ہوا ہے۔

مذکورہ چارج شیٹ میں کہاگیا کہ ’’ اے پی‘‘ کانگریس لیڈر احمد پٹیل کے حوالے سے کہاگیاتھا اور ’’ ایف اے ایم‘‘ کا مطلب’’ فیملی ‘‘ تھا۔

پچھلے سال ڈسمبر میں ای ڈی نے عدالت سے کہاتھا کہ مائیکل نے ’’مسرس گاندھی ‘‘ اور ایک ’’ اٹلین عورت کے بیٹے‘‘ کا حوالہ دیاتھا اور فوری طور سے پوچھ تاچھ کے دوران’’ آر‘‘ کا ذکر کیاتھا مگر ایجنسی نے اپنے اس تبصرہ کی وضاحت نہیں کی ۔

مائیکل جس نے مبینہ طور پر مرکز کو سیاسی مقصد کے لئے اپنے تحقیقاتی اداروں کے استعمال کا مورد الزام ٹہرایاتھامیڈیارپورٹس کے منظرعام پر آنے کے ساتھ جمعہ کے روز عدالت سے رجوع ہوا ۔

اس نے عدالت سے گوہار لگاتے ہوئے کہاکہ شفافیت کے ساتھ سنوائی کے ان کے حق کو بچانے کے لئے اس معاملے سے میڈیا کو دورکھا جائے اور ای ڈی پر الزام عائد کیاکہ اس کے خلاف کیس کو گمراہ کرنے کے لئے چارج شیٹ کی کاپیاں ’’ لیک ‘‘ کی ہیں۔مائیکل کے وکیل الجو کے جوزف جو عدالت میں اپنے موکل کی درخواست کے ساتھ اسپیشل جج ارویندکمار کے روبرو رجوع ہوئے تھے جنھوں نے ہفتہ تک جواب طلب کرتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسی کو نوٹ جاری کیا۔جوزف نے کہاکہ ’’ مائیکل نے اپنے بیان میں تحقیقاتی ایجنسی کے روبرو کسی کا نام نہیں لیاہے‘ جو میڈیا کے سامنے پیش کیاگیا ہے۔

یہ صرف معاملہ کو حساس بنانے اور میرے موکل کے خلاف کیس کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھایاگیااقدام ہے‘‘۔برطانوی شہری مائیکل کی مذکورہ درخواست میں کہاگیاکہ صاف او رشفاف سنوائی کے متعلق ان حقوق کا میڈیا کے حقوق کے ساتھ تصادم ہورہا ہے اور عدالت عارضی طور پر میڈیاکی آزادی کو یقینی بنانے کام کرسکتی ہے۔

اس میں کہاگیا کہ بچاؤ فریق کے وکیل نے جب چارج شیٹ کی کاپی مانگی تو ای ڈی نے یہ کہتے ہوئے کاپی فراہم کرنے سے انکار کردیا کہ عدالت نے اس پر اب تک غور نہیں کیاہے

۔پھر اس میں کہاگیا کہ ’’ ای ڈی نے خفیہ طریقے سے میڈیاہاوزس کو ایک کاپی فراہم کی جس قسطوں میں شائع ہوئی تاکہ معاملے کو حساس بناتے ہوئے ملزم کے ساتھ انصاف سے محروم رکھا جاسکے۔

حالانکہ اب تک عدالت نے اس پر غور نہیں کیاہے‘‘۔

چارج شیٹ کا منتخبہ حصہ میڈیامیں شائع ہوا ہے ‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای ڈی صاف اورشفاف قانونی کاروائی عدالت میں نہیں بلکہ صرف میڈیامیں کرنا چاہتا ہے۔درخواست میں کہاگیا ہے کہ ’’ مذکورہ ای ڈی نے قانونی چارہ جوئی کا مذاق اڑایا ہے ‘‘