میرا مذہب میری وردی تھی

سرینگر۔18 اپریل (احمد علی فیاض) جموں و کشمیر کے علاقہ کتھوعہ میں ایک آٹھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کی تحقیقات کرنے والی جموں و کشمیر کی کرائم برانچ کی اسپیشل انویسٹگیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی واحد خاتون رکن شیوتمبری شرما نے بتایا کہ ان کے لیے یہ کام مخالفتوں کے درمیان کس قدر مشکل تھا۔ جموں و کشمیر کی کرائم برانچ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شیوتمبری شرما نے بتایا کہ آٹھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے گھنائو نے جرم میں افراد ملوث ہیں وہ ہمارے یقین کے مطابق ان کے رشتہ دار اور ہمدردی ظاہر کرنے والے بشمول وکلا کی ایک بڑی تعداد ہے۔ جنہوں نے ہماری تحقیقات کو درہم برہم کرنے اور اس میں خلل ڈالنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے ہمیں ہراساں کیا اور ہماری توہین کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن ہم نے آخرتک ہمارا کام مضبوطی کے ساتھ انجام دیا۔ جموں کے کتھوعہ ڈسٹرکٹ میں ہیرانگر کے راسنا ولیج سے 10 جنوری کو ایک آٹھ سالہ لڑکی لاپتہ ہوگئی تھی۔ اغوا کے الزامات کے درمیان پولیس کے اسے برآمد کرنے میں ناکام ہوجانے کے بعد وہ لڑکی 17 جنوری کو مردہ پائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زبردست مخالفت کے مقابل کام کیا۔ بعض وقت ہم کو مایوسی بھی ہوئی بالخصوص جب ہم کو یہ معلوم ہوا کہ ہیرانگر پولیس اسٹیشن کے افراد کو رشوت دی گئی تھی تاکہ وہ اس کیس میں چپ ہوجائیں اور انہوں نے متاثرہ کے کپڑوں کو دھوڈالا تاکہ مٹیریل شہادت کو مٹادیا جائے۔ 23 جنوری کو حکومت جموں و کشمیر نے اس کی تحقیقات کا کام کرائم برانچ کو سونپا۔ 9 اپریل کو متاثرہ کے خاندان اور ہمدردی رکھنے والوں کے مطالبہ پر اس واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کو تفویض کی گئی۔ ایس آئی ٹی نے ملزمین کے خلاف عصمت ریزی، قتل ، اغوا، قید میں رکھنا، مجرمانہ سازش اور شہادت کو مٹانے کے الزامات کے ساتھ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے پاس دو چارج شیٹس داخل کیے۔ شیوتمبری شرما نے ماتاویشنو دیوی یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی سے ملحقہ دیگر چند کالجس میں 7 سال تک مینجمنٹ پڑھاتی رہی ہیں اور جب وہ 2012ء میں پولیس سروس میں شامل ہوئی تھیں تو مینجمنٹ میں بی ایچ ڈی کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ زیادہ تر ملزمین برہمن ہیں اس لیے انہوں نے خاص طور پر کچھ پراثر انداز ہونے کی کوشش کی مختلف طریقوں سے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم ایک مذہب اور ایک ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور میں انہیں ایک مسلم لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے لیے خاطی نہ ٹہرائوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس کی ایک عہدیدار کی حیثیت سے میرا کوئی مذہب نہیں ہے، میرا مذہب میری پولیس وردی ہی ہے۔ شیوتمبری نے کہا کہ جب اس طرح کے تمام حربے ناکام ہوگئے تو ان کے خاندانوں اور ہمدردوں نے مختلف طریقوں سے بلیک میلنگ کرنے پر اتر آئے۔ وہ لاٹھیاں لیے ہوئے نعرے لگائے، ریالیاں نکالیں اور سڑکوں کو بند کردیا۔ لیکن ہم نے صبروتحمل کے ساتھ ہمارا کام انجام دیا۔ شیوتمبری شرما نے کہا کہ یہ بہت مشکل کام تھا۔میری نیند چلے گئی تھی، میں راتوں میں جاگتی رہی۔ میں سماجی پروگرامس میں اپنے شوہر کا ساتھ نہ دے سکی۔ میں میرے بچوں پر توجہ نہیں دے سکی جنہیں امتحانات کے لیے تیاری کرنا تھا۔ شکر ہے کہ ہم ہمارے کام میں کامیاب ہوئے ہیں اور میں اس بات پر مطمئن ہوں کہ میں نے میری ٹیم کے دیگر ارکان کے ساتھ عصمت ریزی کرنے والوں اور قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کچھ کیا ہے۔